انوارالعلوم (جلد 24) — Page 528
انوار العلوم جلد 24 528 سال 1954ء کے اہم واقعات مردوں کی ذمہ داریاں میں اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ ان مردوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں جو فوجی ہیں۔فوجیوں میں سے پچاس فیصدی افسر ایسے ہیں جن کی بیویوں نے پردہ چھوڑ رکھا ہے اور جب ان کی بیویوں کو سمجھایا جائے تو کہتی ہیں کیا کریں ہمارے خاوند کہتے ہیں کہ اس کے بغیر ترقی نہیں ہوتی۔جب تک تم مجلسوں میں نہیں آؤ گی دعوتوں میں نہیں آؤ گی ہمارے افسر ہمارے متعلق سمجھیں گے کہ یہ کوئی اچھا مہذب افسر نہیں ہے اور اس کی وجہ سے وہ ہم کو اعلیٰ ترقی نہیں دیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک حد تک ایسا ہوتا بھی ہے گو یہ بہت زیادہ مبالغہ ہے میرے ایک عزیز جو فوت ہو گئے ہیں ریلوے کی تعلیم پا کر انگلینڈ سے آئے تو میں نے ان کے لئے کوشش کی کہ وہ کہیں ملازم ہو جائیں۔اتفاق ایسا ہوا کہ ان کی نظر میں کچھ نقص نکلا جس کی وجہ سے گورنمنٹ ریلوے میں وہ نہیں آسکے۔پھر ایک انگریز افسر جو بڑے عہدہ پر تھا اس نے یہ دیکھ کر کہ یہ ولایت سے پڑھ کر آیا ہے اس کو نقصان پہنچا ہے وعدہ کیا کہ میں بنگال ریلوے میں جو اُس وقت تک گور نمنٹ نے ابھی خریدی نہیں تھی اسے ملازم کروادوں گا چنانچہ انہوں نے سفارش لکھ کر بھیجی کہ اس کو وہاں نوکر رکھ لیا جائے۔یہ وہاں گئے اور پھر واپس آگئے میں نے پوچھا کیا ملازم ہو گئے ؟ تو وہ کہنے لگے نہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے وہاں جو دوافسر انٹرویو کے لئے بیٹھے تھے انہوں نے جاتے ہی مجھ سے یہ سوال کیا کہ تمہاری بیوی پردہ کرتی ہے میں نے کہا کہ میری تو شادی ہی نہیں ہوئی اور اگر ہوتی بھی تو میں اس سے پردہ کر اتا۔میں نے کہا کہ تمہیں یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔اتنا کہہ دیتے کہ میری شادی نہیں ہوئی کہنے لگے اس کے بعد امر تسر کا ایک اور شخص پیش ہوا وہ ایک بڑا افسر ہو کے غالباً ابھی ریٹائر ہوا ہے) اور ہنستا ہو اوا پس آیا۔کہنے لگا دیکھو تم نے یہ بیوقوفی کی تھی۔میری بھی ابھی شادی نہیں ہوئی لیکن جب انہوں نے مجھ سے یہ سوال کیا تو میں نے کہا ہاں صاحب میری بیوی ہے اور وہ ٹینس کلب میں جاکر کھیلتی ہے اور ناچتی ہے چنانچہ انہوں نے اُس کو فورار کھ لیا اور ان کو رڈ کر دیا۔میں نے کہا تمہاری تو بیوی ہی کوئی نہیں تم نے یہ کیا کیا ؟ وہ کہنے لگا نہیں ہے تو کیا ہوا مجھے یہ