انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 20

انوار العلوم جلد 24 20 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور ایسا ہی ملائکہ اور معجزات اور لیلتہ القدر وغیرہ کا قائل ہوں۔30" امت محمدیہ میں ہزاروں انسان کمالات بانی سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ نبوت حاصل کرنے والے آسکتے ہیں اور اولیاء سابق کا عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں بیان کرنے کے بعد اور یہ بتانے کے بعد کہ خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُمت محمدیہ کے باصفا علماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء کا وارث اور اپنا وارث قرار دیا ہے ہم مودودی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اصل سوال حقیقت کا ہوتا ہے یا ناموں کا؟ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کے باصفا علماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء کا جانشین قرار دیتے ہیں۔جب ایسے علماء اسلام میں ہوتے رہے ہیں جو اس منصب کے دعویدار رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو نبیوں کے قائم مقام ہوں گے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہوں گے اور بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے تو اور کیا چیز باقی رہ گئی۔یہ سچ ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں مولانا مودودی اور ان کی طرح کے علماء مراد نہیں جن کی نظریں ہمیشہ زمین اور حکومت کی طرف رہتی ہیں آسمان اور عرش کی طرف کبھی نہیں اُٹھتیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے یہی فضل نازل ہو سکتا ہے کہ انہیں کسی ملک کی گورنری یا بادشاہت مل جائے مگر وہ علماء جو خلفاء انبیاء ہوتے ہیں اور وارث انبیاء ہوتے ہیں وہ ان چیزوں کو بالکل حقیر سمجھتے ہیں ان کی نظر دُنیا کی اصلاح اور اپنے نفس کی اصلاح اور اسلام کی اشاعت پر ہوتی ہے وہ زمین کی بادشاہتوں کو نہیں دیکھتے وہ آسمان کی بادشاہتوں کو دیکھتے ہیں۔کراچی کا گورنر جنرل ہاؤس ان کی نظروں میں نہیں ہوتا۔نہ قاہرہ کا شاہی قلعہ ان کے ذہنوں میں ہوتا ہے۔وہ حضرت محی الدین صاحب