انوارالعلوم (جلد 24) — Page 512
انوار العلوم جلد 24 512 سال 1954ء کے اہم واقعات اور ان کی تربیت بھی کم کی گئی ہے ان کی مجالس میں گردو غبار زیادہ ہوتا ہے۔خصوصاً گاؤں والی عورتیں اور پھر خصوصاً ایسی عورتیں جنہوں نے ہمیں گودیوں میں پالا ہوا ہے اور ایسی عورتیں ابھی زندہ ہیں) ان میں سے کوئی عورت آجائے تو وہ تو ایک بچہ سمجھ کر مجھ پر آکر جھپٹتی ہے کیونکہ اس نے گودیوں میں کھلایا ہوا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ تو پھر وہ گرد اڑتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آندھی ہی آرہی ہے۔اس وجہ سے مجھے زیادہ کوفت ہوئی۔لیکن زیادہ تر مجھے اس وجہ سے خیالی کوفت ہوئی کہ ہماری جماعت اتنی دیر سے قائم ہے اور ابھی تک مردوں اور عورتوں کی تربیت پوری طرح سے نہیں ہو سکی۔یورپ میں میں نے دیکھا ہے ان کے ہاں ایسی تربیت ہے کہ خطر ناک سے خطر ناک وقت میں بھی وہ اپنے نظام کو نہیں بگڑنے دیتے۔میں نے اخبار میں ایک دفعہ ایک واقعہ پڑھاؤ اللهُ اَعْلَمُ واقعہ تھا یا لطیفہ مگر اس نے واقعہ کے طور پر لکھا تھا کہ کسی سینما میں لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے کہ آگ لگ گئی آگ کو دیکھ کر لوگ باہر کی طرف بھاگے۔اب ڈر یہ پیدا ہوا کہ دروازہ رُک جائے گا لوگ اس میں پھنس جائیں گے اور جتنی دیر میں دس نکل سکتے ہیں اُتنی دیر میں شاید دو ہی نکلیں۔ایک ہوشیار آدمی وہاں کھڑ ا ہوا تھا اس نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو اس نے سمجھا کہ ان کو فوراً نظم میں لانا چاہئے ورنہ پھر ان کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔ان کے ہاں ایک قاعدہ ہوتا ہے جسے کیو(QUEUE) کہتے ہیں۔ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں گے۔ان کے ہاں قاعدہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں اور پھر اسی ترتیب سے جاتے ہیں جس ترتیب سے کہ وہ کھڑے ہوئے تھے اور یہ عادت ان میں اس قدر راسخ ہو گئی ہے کہ حیرت آتی ہے۔میں نے ایک دفعہ لندن میں دیکھا۔میں جارہا تھا چو دھری صاحب اور دوسرے دوست ساتھ تھے ایک گلی میں کوئی سو گز کی ایک لمبی قطار تھی اور اس کے پہلو میں اسی طرح کی ایک دوسری قطار تھی اور اسی طرح ایک تیسری قطار تھی۔سب لوگوں نے ہاتھ میں چھوٹے چھوٹے جگ پکڑے ہوئے تھے۔تینوں کے اگلے سرے کھڑکی کے پاس تھے