انوارالعلوم (جلد 24) — Page 487
انوار العلوم جلد 24 487 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار لڑکی بھی باہر آئی اور وہ ہنس کر کہنے لگی میر اباپ جھوٹ بولتا ہے میں نے خود سنا ہے کہ وہ اس قسم کا آرڈر دے رہا تھا۔غرض بے اطمینانی اس قسم کی باتوں سے پھیلتی ہے۔انگریز کتنا ہی برا ہو لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قوم کا ایک مخصوص کیریکٹر تھا۔ہماری ایک زمین تھی جو صدر انجمن احمدیہ نے خرید کی ہوئی تھی۔وہ افتادہ زمین تھی کسی کام نہیں آتی تھی۔وہاں لوگ کھیلتے اور میلے کر لیتے تھے۔چونکہ وہ جگہ خالی تھی اس لئے مخالفوں نے شور مچایا کہ یہ پبلک کی جگہ ہے اور اس پر انہوں نے قبضہ کر لیا۔ہم نے بھی اس زمین کو واپس لینے کی کوشش کی۔کاغذات مسٹر ایمرسن کے پاس تھے وہ مالیات کے ماہر تھے انہیں ہمارے ایک دوست ملے تو انہوں نے کہا میں نے یہ کاغذات چھ ماہ سے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔میں نے اپنا پورا زور لگایا ہے کہ میرا ہاتھ پڑے تو میں آپ سے یہ زمین چھین لوں لیکن چھ ماہ تک غور کرنے کے باوجود میرا کہیں ہاتھ نہیں پڑا۔اس لئے میں نے زمین آپ کو واپس دے دی ہے۔اگر ہمارے ملک کے افراد میں بھی یہی روح پیدا ہو جائے کہ وہ کسی کا حق چھینے کے لئے تیار نہ ہوں تو قلوب کی بے اطمینانی بڑی حد تک دور ہو سکتی ہے۔اس کالج میں جو غیر احمدی طالب علم آئے ہیں ان سے میں کہتا ہوں کہ اگر تم اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہو تو صرف اسلام سیکھنے کے لئے۔ورنہ اگر دنیوی ملازمتوں کو دیکھا جائے تو ہماری جماعت کے لئے کئی قسم کی مشکلات ہیں۔گو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مختلف قسم کی مشکلات کے باوجو داحمدی گورنمنٹ سروسز میں عام طور پر منتخب ہو جاتے ہیں اور یہ صرف ہمارے تعلیمی اداروں کی اخلاقی برتری کی وجہ سے ہے۔دوسری جگہوں میں لڑکے سینما دیکھتے ہیں۔بعض شراب بھی پیتے ہیں اور اس طرح اپنے وقت کو لغویات میں ضائع کر دیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک انگریز پادری نے یہ کہا تھا کہ جب تک اس ملک سے حقہ کی عادت نہیں جائے گی یہ ملک دنیا کی نظروں میں عظمت حاصل نہیں کر سکتا۔اسی طرح میں یہ کہوں گا کہ جب تک سینما دیکھنے اور ریڈیو کے گانے سننے کی عادت نہیں جائے گی ہمارے ملک کو ترقی