انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 484

انوار العلوم جلد 24 484 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار ہوتا ہے کہ گویا کوئی آفت آرہی ہے۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں یورپ والی مز دوری نہیں ملتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یورپ کا مزدور ہمارے مزدور سے پانچ گنا زیادہ کام کرتا ہے۔اگر ہمارے ملک میں ایک مزدور ڈیڑھ روپیہ روزانہ کماتا ہے تو ایک یورپین مز دور دن میں ساڑھے سات روپیہ کا کام کر دیتا ہے۔اب پاکستانی مزدور کے مقابلہ میں پانچ گنا زیادہ کام کرنے پر اگر اسے پانچ روپیہ روزانہ مزدوری دی جائے تو کیا حرج ہے وہاں ایک عمارت بن رہی تھی۔ہمیں پہلی نظر میں یوں معلوم ہوا کہ گویا آگ لگی ہوئی ہے اور لوگ اسے بجھانے کے لئے جارہے ہیں لیکن ہمارا مز دور اس طرح چلتا ہے کہ گویا اسے دھکا دیکر موت کی طرف لے جایا جا رہا ہے جب وہ ٹوکری اٹھاتا ہے تو آہ بھرتا ہے پھر کمر پر ہاتھ رکھتا ہے پھر اینٹ پر پھونک مارنے لگتا ہے اس کے بعد وہ اسے اٹھا کر ٹوکری میں رکھتا ہے اور یہی عمل وہ دوسری اینٹوں پر کرتا ہے۔آٹھ دس منٹ کے بعد وہ ٹوکری اٹھائے گا۔پھر جب وہ ٹوکری اٹھاتا ہے تو اس کی عجیب حالت ہوتی ہے اس کے جسم میں میں خم پڑیں گے پھر جب وہ ٹوکری اٹھا کر قدم اٹھاتا ہے تو اس کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے اس طرح وہ ہیں پچیس منٹ میں معمار کے پاس پہنچتا ہے پھر معمار بھی اس قسم کی حرکات کرتا ہے کہ گویا کسی مریض کا آپریشن ہونے لگا ہے۔۔پس جب تک تم لوگ قربانی محنت اور دیانتداری کی عادت نہیں ڈالتے ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پرانی عادات کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن کوئی نئی عادت پیدا نہ ہونے دینا آسان ہوتا ہے مثلاً بڑی عمر میں جاکر سگریٹ وغیرہ کا استعمال ترک کرنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن اگر اس عمر میں ان باتوں کو چھوڑ دو تو زیادہ مشکل نہیں اسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ قوم کی عمارت کو بنانا نوجوانوں کا کام ہوتا ہے۔تم اس فقرہ کو روزانہ دہراتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بیان کرتے ہو لیکن عملی طور پر اسے اپنی روز مرہ کی زندگی میں مد نظر نہیں رکھتے مثلاً سکولوں اور کالجوں کے لڑکے سٹرائیکہ کرتے ہیں اور اپنے جلسوں اور تقریروں میں یہ الفاظ دہراتے ہیں کہ ہم قوم کے معمار ہیں۔قو میں ہمیشہ نوجوانوں سے بنا کرتی ہیں اور اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ لڑکے ہی قوم