انوارالعلوم (جلد 24) — Page 478
انوار العلوم جلد 24 478 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار جو پہلے دوست کو موسیقی کے بارہ میں دیا تھا کہ نصف گھنٹہ یا پون گھنٹہ تک آپ سمجھاتے رہے لیکن میں جو کچھ سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس علم کے متعلق جو کچھ میں اب تک سمجھتا رہا ہوں وہ غلط ہے اور آپ نے جو کچھ سمجھانا چاہا ہے وہ میں نہیں سمجھا۔اب دیکھو دو علم گئے جو مجھے نہیں آتے۔پھر میں کہاں حکیم کہلا سکتا ہوں۔نہ میں علم موسیقی جانتا ہوں اور نہ میں PAINTING جانتا ہوں۔ورنہ مجھے ہر علم کا شوق ہے۔ہاتھ دیکھنا، کمپیریٹو ریلیجن (COMPARATIVE RELIGION)، طب، جغرافیه، تاریخ حساب اور باقی اکثر علوم کے متعلق میں نے کتابیں پڑھی ہیں اور میں ان کے متعلق خاصی واقفیت رکھتا ہوں لیکن یہ علوم میں نے کالج میں نہیں پڑھے۔پرائیویٹ طور پر ان کا مطالعہ کیا ہے۔ایک چھوٹا سا نکتہ تھا جس نے مجھے اس کا شوق دلایا۔میں ایک دفعہ دہلی جا رہا تھا۔کہ سفر پر جانے سے پہلے حضرت خلیفہ اول نے مجھے کہا میاں تم نے کبھی کنچنی کا ناچ بھی دیکھا ہے مجھے بہت شرم آئی کہ آپ نے یہ کیا سوال کیا ہے اور میں کوئی جواب نہ دے سکا۔آپ نے فرمایا میاں تم دین سیکھ رہے ہو اگر تمہیں کنچنی کے ناچ کا ہی علم نہیں تو تم اس کے متعلق کیا رائے قائم کر سکتے ہو تم اسے فن کے طور پر دیکھو اس چیز نے مجھے احساس دلایا کہ علم کے طور پر کوئی چیز بھی بُری نہیں۔ہاں اگر وہی چیز تعیش کے طور پر کی جائے تو وہ علم نہیں بلکہ جہالت ہے مثلاً چوری بھی ایک علم ہے اگر یہ علم نہ سیکھا جائے تو جاسوس کیسے بنیں اس کے متعلق بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں لکھا ہے کہ چور کی ایک عادت ہوتی ہے اور وہ اسے بار بار دہراتا ہے مثلاً ایک چور کو کھڑ کی سے کودنے کی عادت ہے۔دوسرے کو سیندھ لگانے کی عادت ہے جاسوسوں نے ان پر نشان لگایا ہوا ہوتا ہے جب بھی کوئی چوری ہوتی ہے۔جاسوس اس نشان کا تبتع کرتے ہیں مثلاً کسی گھر میں چوری ہوتی ہے اور چور کھڑکی سے کو دا ہے تو انہیں معلوم ہو گا کہ کتنے چور ایسے ہیں جنہیں کھڑکی سے کودنے کی عادت ہے ان کے متعلق وہ یہ معلوم کریں گے کہ ان میں سے کونسا شخص فلاں تاریخ کو گھر سے غیر حاضر تھا۔جو شخص گھر سے غیر حاضر ہو گا۔وہ اسے پکڑ لیں گے غرض یہ بھی ایک علم ہے اور یہ اپنی ذات میں برا نہیں اس سے بہت