انوارالعلوم (جلد 24) — Page 437
انوار العلوم جلد 24 437 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار لیکن وہ ساری جگہیں اسے نا پسند ہوں تو تم ہی بتاؤ کہ کیا وہ یہ فیصلہ کرے گا کہ لاش ان چاروں جگہوں میں سے کسی جگہ بھی دفن نہ کی جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے پھینک دیا جائے یاوہ یہ فیصلہ کرے گا کہ لاش کو دفن کر دو چاہے کسی جگہ کر دو۔پس اگر نائب صدر کے انتخاب کے وقت کسی فرد کو کسی پر سو فیصدی تسلی نہ ہو تب بھی اسے کچھ نہ کچھ فیصلہ ضرور کرنا پڑے گا مثلاً وہ کہہ سکتا ہے کہ ان امید واروں پر مجھے سو فیصدی تسلی نہیں۔ہاں فلاں شخص پر مجھے سب سے زیادہ تسلی ہے یا وہ کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے فلاں پر مجھے 60 فیصدی تسلی ہے باقی پر 60 فیصدی تسلی بھی نہیں اور اگر اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا تو وہ کوئی اور نام پیش کر دے اور کہے مجھے اس پر تسلی ہے چاہے اسے ایک ہی ووٹ ملے۔آگے مرکزی دفتر کا یہ فرض ہے کہ وہ خدام کو یہ امر ذہن نشین کراتا رہے کہ انہیں کس قسم کے شخص پر تسلی ہونی چاہئے۔مثلاً لوگ شادیاں کرتے ہیں تو کوئی یہ دیکھ کر شادی کرتا ہے کہ لڑکی خوش شکل ہے ، کوئی کہتا ہے اس عورت کا خاندان زیادہ معزز ہے، کوئی کہتا ہے سُبحَانَ الله فلاں عورت بہت پڑھی ہوئی ہے وہ پی۔ایچ۔ڈی ہے اور آجکل لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں عورت اپوا کی عہدیدار ہے یا لیگ میں کسی اچھے عہدہ پر ہے۔کوئی کہتا ہے کہ اگر کوئی عورت لیگ میں کام کرتی ہے تو اسے ہم نے کیا کرنا ہے۔اس کے پاس روپیہ پیسہ تو ہے ہی نہیں۔کوئی کہتا ہے اس کے پاس روپیہ پیسہ نہیں تو کوئی حرج نہیں ہمیں تو عزت کی ضرورت ہے۔کوئی کہتا ہے۔اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہے اس سے بہتر اور کون ہو سکتی ہے۔کوئی کہتا ہے چھوڑو ان سب باتوں کو عورت نے ہر وقت نظر کے سامنے رہنا ہوتا ہے اگر اس کی شکل ہی پسند نہ آئی تو اسے کیا کرنا ہے۔غرض مختلف وجوہ کو پیش نظر رکھ کر لوگ شادیاں کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان تمام وجوہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کوئی نسب کی وجہ سے شادی کرتا ہے یعنی وہ سمجھتا ہے کہ اس عورت کا خاندان بہت معزز ہے اس لئے میں اس سے شادی کروں گا۔کوئی مال کی وجہ سے شادی کرتا ہے اور کوئی جمال کی وجہ سے شادی کرتا ہے پھر آپ