انوارالعلوم (جلد 24) — Page 401
انوار العلوم جلد 24 401 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب فسادات کو روکنے کے قابل نہیں ہوئے۔یہ بھی بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ جیسا کہ شہادتوں سے ثابت ہے لاہور میں فسادات میں حصہ لینے والے صرف لاہور کے باشندے نہیں تھے بلکہ زیادہ تر حملے کرنے والے لوگ وہ تھے جو کہ باہر سے منگوائے گئے تھے پس اس بات کو دیکھ کر لاہور کے مارشل لاء کے جاری کرنے کے موجبات کو صرف لاہور تک محدود نہیں کیا جائے گا بلکہ پنجاب کے دوسرے علاقوں پر بھی نظر ڈالنی پڑے گی۔اگر بیر و نجات سے سینکڑوں کی تعداد میں جتھے نہ آتے تو پولیس کے لئے انتظام مشکل نہ ہوتا۔پولیس کا انتظام زیادہ تر اس بات پر مبنی ہوتا ہے کہ وہ لوکل آدمیوں کی طبیعتوں اور اُن کے چال چلن کو جانتی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ کسی محلہ میں کون کون سے لوگ اس قسم کی شرارت کر سکتے ہیں اور پھیلا سکتے ہیں۔پس وہ ان کو گرفتار کر لیتی ہے اور اس طرح شورش کی جڑ کو کچل دیتی ہے۔لیکن گزشتہ فسادات میں پارٹیشن کے زمانہ کے فسادات سے سبق سیکھتے ہوئے ان فسادات کے بانیوں نے جہاں جہاں بھی فساد ہو ا وہاں باہر سے آدمی لا کر جمع کر دیئے تھے تاکہ پولیس ان سے معاملہ کرتے وقت صحیح اندازہ نہ کر سکے اور مقامی شورش پسند لوگ جن کو وہ جانتی ہے ان کی گرفتاری سے شورش کو دبانہ سکے۔پنجاب کے دوسرے علاقوں میں بھی جہاں جہاں شورش کی گئی اسی رنگ میں کام کیا گیا کہ جس گاؤں میں شورش کرنی ہوتی تھی وہاں اِرد گرد کے گاؤں سے آدمی لائے جاتے تھے اور مقامی گاؤں والے بظاہر خاموش بیٹھے رہتے تھے پس جو کچھ لاہور میں ہو اوہ کبھی نہیں ہو سکتا تھا اگر اضلاع میں اس کی بنیاد نہ رکھی جاتی اور اگر حکومت اس فتنہ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے تمام اضلاع میں تعاون پیدا کر دیتی تو یہ فسادات یا تو رو نما نہ ہوتے یا ظاہر ہوتے ہی دبا دیئے جاتے۔ہم اس بات میں نہیں پڑنا چاہتے کہ زید یا بکر کس پر ان فسادات کی زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ نہ اس طرح ہمارے مقتول واپس لائے جاسکتے ہیں، نہ ہمارے جلائے ہوئے مکان بنائے جا سکتے ہیں، نہ ہمارے لوٹے ہوئے مال ہم کو واپس