انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 367

انوار العلوم جلد 24 367 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان وکیل کے سوال: کیا آپ مؤمن اور مسلم کی اس تعریف سے اتفاق رکھتے ہیں جو صد را انجمن احمد یہ ربوہ نے عدالت کے ایک سوال کے جواب میں دی تھی؟ جواب: ہاں۔سوال: کیا آپ اپریل 1911ء میں تشحیذ الاذہان کے ایڈیٹر تھے ؟ جواب: ہاں۔سوال: کیا آپ نے جن خیالات کا آج یا کل اظہار کیا ہے ان خیالات سے کسی رنگ میں مختلف ہیں جو آپ نے اپریل 1911ء میں تشخیز الاذہان کے دیباچہ میں ظاہر کئے تھے؟ جواب: نہیں۔سوال: کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے کتاب آئینہ صداقت کے پہلے باب میں صفحہ 35 پر ظاہر کیا تھا یعنی یہ کہ تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مرزا صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج؟ جواب: یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔پس جب میں "کافر" کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات راغب کے صفحہ 240 پر کیا گیا ہے۔جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ایک دُونَ الایمان اور دوسرے فَوقَ الایمان۔دُونَ الایمان میں وہ سلمان شامل ہیں جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔فوق الایمان میں ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔اس لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگ