انوارالعلوم (جلد 24) — Page 366
انوار العلوم جلد 24 366 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان مسلم حکومت حق پر ہے تب اس کا فرض ہے کہ وہ استعفیٰ دے دے یا جیسا کہ بعض دوسرے ممالک میں دستور ہے یہ اعلان کر دے کہ ایسی جنگ میں شمولیت میری ضمیر کے خلاف ہے۔سوال: کیا آپ کا یہ ایمان ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب بھی انہی معنوں میں شفیع ہوں گے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شفیع سمجھا جاتا ہے؟ جواب: جی نہیں۔چودھری نذیر احمد صاحب ایڈووکیٹ جماعت اسلامی کی جرح کے جواب میں سوال: آپ کی جماعت میں الفضل کو کیا حیثیت حاصل ہے؟ اور آپ کا اِس سے کیا کو کیا تعلق ہے؟ جواب: یہ صحیح ہے کہ اس اخبار کو میں نے جاری کیا تھا لیکن میں نے دو تین سال بعد اپنا تعلق اس سے منقطع کر لیا تھا۔غالباً ایسا میں نے 1915 ء یا 1916ء میں کیا تھا۔یہ اب صدرانجمن احمد یہ ربوہ کی ملکیت ہے۔سوال: کیا 1916،1915ء کے بعد آپ کے اختیار میں یہ بات تھی کہ آپ اس کی اشاعت کو روک دیں؟ جواب: جی ہاں۔اس اعتبار سے کہ جماعت میری وفادار ہے اور اگر میں انہیں کہوں کہ وہ اس پر چہ کو نہ خریدیں تو اس کی اشاعت خود بخود بند ہو جائے گی۔عدالت کا سوال: کیا آپ انجمن کو مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ اس کی اشاعت کو بند کر دے؟ جواب: میں انجمن کو بھی مشورہ دے سکتا ہوں جو اس کی مالک ہے کہ وہ اس کی اشاعت کو روک دے۔