انوارالعلوم (جلد 24) — Page 318
انوار العلوم جلد 24 318 سیر روحانی (7) خطرہ ہو اور دوسری طرف موت کا اُس سے بہادری کب ظاہر ہو سکتی ہے۔کو ئٹہ میں ایک فوجی افسر سے ملاقات تین چار سال کی بات ہے میں کوئٹہ گیا تو وہاں مجھے کچھ فوجی افسر ملنے آئے۔اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اِسی دوران میں کشمیر کا بھی ذکر آگیا میں نے کہا کشمیر مسلمانوں کو ضرور ملنا چاہئے ورنہ اس کے بغیر پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا۔دوسرے دن میرے پرائیویٹ سیکرٹری نے مجھے لکھا کہ فلاں کر نیل صاحب آپ سے ملنے کے لئے آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے الگ بات کرنی ہے۔میں نے اُن کو لکھا آپ کو کوئی غلطی تو نہیں لگی یہ تو گل مجھے مل کر گئے ہیں۔انہوں نے کہا یہ بات تو درست ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک پرائیویٹ بات کرنی ہے۔میں نے کہالے آؤ چنانچہ وہ آگئے۔میں نے کہا فرمائیے آپ نے کوئی الگ بات کرنی تھی۔کہنے لگے جی ہاں۔میں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگے آپ نے کہا تھا کہ ہمیں کشمیر لینا چاہئے اور اس کے لئے ہمیں قربانی کرنی چاہئے یہ بات آپ نے کس بناء پر کہی تھی؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہندوستان کے پاس فوج زیادہ ہے؟ میں نے کہا میں خوب جانتا ہوں کہ اُس کے پاس فوج زیادہ ہے۔کہنے لگے تو کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ جو بندوقیں ہمارے پاس ہیں وہی اُن کے پاس ہیں ؟ میں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے پاس ڈم ڈم کی فیکٹری ہے جو ہزاروں ہزار بندوق اُن کو ہر مہینے تیار کر کے دے دیتی ہے ؟ میں نے کہا۔ٹھیک ہے۔کہنے لگے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے پاس اتنا گولہ بارود ہے اور آٹھ کروڑ کا گولہ بارود جو ہمارا حصہ تھا وہ بھی انہوں نے ہم کو نہیں دیا۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے ہاں ہوائی جہازوں کے چھ سکوارڈن ہیں اور ہمارے ہاں صرف دو ہیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے اُن کی اتنی آمد ہے اور ہماری اتنی آمد ہے۔میں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے۔کہنے لگے جن کالجوں میں وہ پڑھے ہیں انہی کالجوں میں ہم بھی پڑھتے ہیں ہمیں اُن پر علمی رنگ میں کوئی برتری حاصل نہیں۔میں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے۔کہنے لگے پھر جب ہماری فوج کم ہے اور اُنکی