انوارالعلوم (جلد 24) — Page 315
انوار العلوم جلد 24 315 سیر روحانی (7) و 60 فَالْمُغِيرَاتِ صُبحا - فَاثَرْنَ بِهِ نَفْعًا فَوَسَطنَ بِهِ جَمْعًا - ان آیات میں اللہ تعالیٰ اسلامی لشکر کے متعلق یہ بیان فرماتا ہے کہ وہ کس شکل اور شان سے مخالفین کے مقابل پر نکلے گا۔فرماتا ہے۔وَالْعَدِیتِ ضَبحًا۔عادی کے معنے ہوتے ہیں دوڑنے والا اور ضبع گھوڑے کی دوڑوں میں سے ایک خاص دوڑ کا نام ہے جس میں گھوڑا سرپٹ دوڑ پڑتا ہے پس وَ الْعَدِیتِ ضَبحًا کے یہ معنے ہوئے کہ ہم اُن گھوڑوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو دوڑتے وقت صبح چال اختیار کرتے ہیں۔یعنی شرت جوش سے سرپٹ دوڑ پڑتے ہیں اور یہ طریق ہمیشہ فخر اور اظہارِ بہادری کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ضبع کے دوسرے معنے گھوڑے کا اگلے پاؤں لمبے کر کے مارنا ہو تا ہے جس سے اُس کے بازوؤں اور بغلوں میں فاصلہ ہو جائے۔پس دوسرے معنے اس کے یہ ہونگے کہ ہم اُن گھوڑوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اگلے پاؤں لمبے کر کے مارتے اور اُچھل کر دوڑتے ہیں جس کے نتیجہ میں اُن کی بغلوں اور بازوؤں میں لمبا فاصلہ ہو جاتا ہے۔یہ چیز شدتِ شوق پر دلالت کرتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ گھوڑے کے اندر تو کوئی شدّتِ شوق نہیں ہوتی گھوڑے میں شدّتِ شوق اپنے سوار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔وہ جب دیکھتا ہے کہ میرے سوار کے اندر جوش پایا جاتا ہے تو گھوڑا بھی اس کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے۔تیسرے معنے دوڑتے وقت گھوڑے کے سینہ سے آواز نکلنے کے ہیں جو عزم مقبلانہ پر دلالت کرتی ہے۔جب نہ سوار کو موت سے دریغ ہو تا ہے نہ گھوڑا اپنی جان کی پرواہ کرتا ہے۔گو بظاہر اس جگہ گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن مُراد سواروں کی حالت کا بتانا ہے کیونکہ گھوڑا اپنے سوار کی قلبی حالت سے متاثر ہوتا ہے اور یہ اُسی وقت ہو تا ہے جبکہ سوار کی دلی حالت اُس کے تمام جوارح سے ظاہر ہونے لگے۔مثلاً دوڑتے ہوئے سوار شوق کی شدّت کی وجہ سے ایک ہی وقت میں ایڑیاں مارنے لگے منہ سے سیٹی بجانے لگے یا اُسے شاباش کہنے لگے۔اسی طرح باگ کو کھینچ کھینچ کر چھوڑے آگے کو جھک جائے تو گھوڑا سمجھ جاتا ہے کہ میرے سوار کی حالت۔