انوارالعلوم (جلد 24) — Page 310
انوار العلوم جلد 24 310 سیر روحانی (7) نہیں جانتے تھے اور مسلمانوں کو صابی کہتے تھے۔صَبَوتُ کا یہ مطلب تھا کہ میں مسلمان ہو تا ہوں۔غرض وہ اسلام سے اتنانا واقف تھا کہ نام بھی نہیں جانتا تھا۔کہنے لگاصَبَوْتُ۔مگر انہوں نے اُس کو مار ڈالا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا۔تم نے اُسے کیوں مارا۔انہوں نے کہا۔يَارَسُوْلَ اللہ ! اُسے تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اسلام کیا ہوتا ہے۔اُس نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ صَبَوْتُ۔آپ نے فرمایا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا اس کو نہیں پتہ تھا کہ اسلام کا نام کیا ہے لیکن اس کا مطلب تو یہی تھا کہ میں اسلام میں داخل ہو تا ہوں۔تم نے اس کو کیوں مارا؟ انہوں نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! میں نے مارا اس لئے کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔آپ نے فرمایا۔نہیں۔پھر آپ نے فرمایا تو قیامت کے دن کیا کرے گا جب خدا تجھ سے کہے گا کہ اس شخص نے یہ کہا اور پھر بھی تو نے اُسے قتل کر دیا۔اسامہ آپ کے نہایت ہی محبوب تھے۔وہ کہتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس ناراضگی کو دیکھ کر اپنے دل میں کہا۔اے کاش! میں اس سے پہلے کا فر ہو تا اور آج میں نے اسلام قبول کیا ہوتا تا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا مورد نہ بنتا۔کے اب کجا یہ احتیاط کا حکم اور کجا یہ کہ یو نہی مارے چلے جاتے ہیں تاکہ سارے ملک میں خوف اور ڈر پیدا کر دیا جائے۔اسلام کی طرف سے مفتوحہ ممالک اسی طرح فرماتے ہیں کہ جب مفتوحہ ممالک میں جاؤ تو ایسے احکام کے لئے سہولتیں مہیا کرنے کا حکم جاری کرو جن سے لوگوں کو آسانی ہو تکلیف نہ ہو۔اور فرمایا جب لشکر سڑکوں پر چلے تو اس طرح چلے کہ عام مسافروں کا راستہ نہ رکے۔ایک صحابی کہتے ہیں ایک دفعہ لشکر اس طرح نکلا کہ لوگوں کے لئے گھروں سے نکلنا اور راستہ پر چلنا مشکل ہو گیا۔اس پر آپ نے منادی کروائی کہ جس نے مکانوں کو بند کیا یا راستہ کو روکا اُس کا جہاد جہاد ہی نہیں ہوا۔57