انوارالعلوم (جلد 24) — Page 287
انوار العلوم جلد 24 287 سیر روحانی (7) خلاف وہ غیر اسلامی تعلیم پر عامل ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ تم کسی پر ظلم نہ کرو لیکن غیر اسلام کہتا ہے کہ سب پر ظلم کرو اس میں تمہارا فائدہ ہے ، اسلام کہتا ہے کہ تم کسی کی حریت ضمیر میں دخل نہ دو اور غیر مذاہب یہ کہتے ہیں کہ بے شک حریت ضمیر میں دخل دو، اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کا نام لیتا ہے تو چاہے وہ ہندو ہو ، عیسائی ہو ، یہودی ہو کسی قوم کا ہو اسکو موقع دو اور کہو کہ تو بے شک نام لے لیکن غیر اسلامی کہتے ہیں کہ اگر ہمارے گرجے میں خدا کا نام لیتا ہے تو ٹھیک ہے ، اگر ہمارے صلوۃ میں نام لیتا ہے تو ٹھیک ہے ، اگر ہمارے مندر میں نام لیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم نہیں لینے دیں گے۔آج مسلمان بھی یہی کہتا ہے چنانچہ دیکھ لو کیا ان میں سے کوئی بات بھی ہے جو مسلمان نہیں کر رہا؟ کیا آج کا مسلمان یہ نہیں کہہ رہا کہ یا تو ہماری طرح کی نماز پڑھو ورنہ ہم نہیں پڑھنے دیں گے ، یا تو ہماری طرح فتوے دور نہ تمہیں فتویٰ نہیں دینے دیں گے، یا تو ہماری طرح کام کرو ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے۔کیا آج ہماری فقہ میں نہیں لکھا ہوا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو نئے معبد بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی یا گرجے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن یہ کہتا ہے کہ ہم اس لئے لڑتے ہیں تاکہ گرجوں کو بچائیں۔قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ کو لڑنے کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ یہودیوں کے عبادت خانوں کو گرنے سے بچایا جائے، قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑنے کی اِس لئے اجازت دی گئی ہے کہ مانک (MONK) یا راہب وغیرہ جو بیٹھے عبادت کر رہے ہیں اُن کو نقصان نہ پہنچے لیکن اب ہر ایک بات کے خلاف کرنے کے لئے مسلمان یہ کہتا ہے کہ دوسروں کے معبد توڑنے جائز ہیں، لوگوں سے لڑائی بھی جائز ہے، لوگوں کے مذاہب میں دخل دینا بھی جائز ہے، لوگوں سے جبراً اپنی ضی منوانا بھی جائز ہے لیکن قرآن کہتا ہے کہ تمہیں اس طرح فتح نصیب نہیں ہو گی۔تمہیں فتح تب نصیب ہو گی جبکہ تم لوگوں کو آزادی دو گے ، جبکہ تم لوگوں کو حریت ضمیر دوگے، جبکہ تم لوگوں کے مذہب میں دخل نہیں دو گے اور کہو گے کہ بیشک یہ مذہب رکھو یہ خدا کا معاملہ ہے۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ دنیا کی رائے ہی آخر جیت کا موجب