انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 282

انوار العلوم جلد 24 282 سیر روحانی (7) ملک چھوڑنے کے لئے بھی کوئی آزادی نہیں تھی اور جب وہ اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں چلے گئے تو وہاں بھی حملہ کیا۔حبشہ گئے تو وہاں اُن کو لینے کے لئے آدمی پہنچے۔مدینہ گئے تو وہاں حملہ شروع کر دیا۔سوم ان لوگوں کو جو گھر سے نکالا گیا تھا تو اُن کے کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ بلا سبب مگر پھر بھی یہ لوگ اُف نہیں کر سکے اور پھر اُن کو نکال کر بس نہیں کی گئی بلکہ جس غیر ملک میں انہوں نے پناہ لی وہاں بھی جاکر حملہ کر دیا گیا۔چہارم یہ اعلان کیا گیا کہ ان پر جو ظلم کئے جارہے ہیں یہ کسی سیاسی وجہ سے نہیں کئے جارہے کسی ملک یا علاقہ کا یہ لوگ مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف اس لئے ان پر ظلم کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم اور حکومت کو کہہ دیا ہے کہ ہم سیاسی آدمی نہیں ہیں۔آپ جو کچھ ہمیں حکم دیں گے ہم آپ کی مانیں گے مگر جن امور کا تعلق مَا بَعْدَ الْمَوْتِ سے ہے اُنکی تیاری کے لئے ہم کو آزاد چھوڑ دیا جائے کیونکہ جسموں کی بادشاہت حکومت کے پاس ہے مگر رُوح کی حکومت خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اس لئے حکومت ہمارے جسموں پر تو حکومت کرے مگر ہماری روحوں کو آزاد چھوڑ دے کہ ہم اپنے اللہ سے صلح کر لیں۔مگر حکومت نے کہا نہیں ہم تمہارے جسموں پر بھی حکومت کریں گے اور تمہارے عقیدہ اور مذہب پر بھی حکومت کریں گے۔پنجم اس اعلانِ جنگ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جنگ ہم صرف ضمیر کی آزادی کیلئے نہیں کر رہے، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان کلمہ پڑھ سکے، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان نماز پڑھ سکے ، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان روزے رکھ سکے، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان حج کر سکے ، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان زکوۃ دے سکے بلکہ ہم اس لئے کر رہے ہیں کہ عیسائی، یہودی اور مجوسی سب کو ان کے مذہب کی آزادی حاصل ہو جائے کیونکہ حریت ضمیر سب کا حق ہے صرف مسلمانوں کا حق نہیں۔کسی قوم کا حق نہیں کہ ضمیر کو وہ اپنے لئے مخصوص کرلے اور باقیوں کو حریت دینے سے انکار کر دے۔