انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 268

انوار العلوم جلد 24 268 سیر روحانی (7) ہیں تو وہ جھک جاتے ہیں کھڑے ہوتے ہیں تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ کہنے لگے مسلمان اسی طرح کرتے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حرکت کی نقل کیا کرتے ہیں۔ابو سفیان کہنے لگا میں تو قیصر کے پاس بھی گیا اور اور بادشاہوں کے پاس بھی گیا ہوں اُن کو تو میں نے اس طرح عبادت کرتے نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا قیصر کیا چیز ہے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ روٹی کو ہاتھ نہیں لگانا، پانی کو ہاتھ نہیں لگانا تو وہ بھو کے مر جائیں گے ، پیاسے مر جائیں گے مگر روٹی نہیں کھائیں گے اور پانی نہیں پیئیں گے۔ابو سفیان کی رسول کریم صلی اللہ جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کو لے کر علیہ وسلم سے درخواست رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کو دیکھا اور فرمایا۔تیر ابرا حال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ خدا ایک ہے۔ابوسفیان نے کہا یقین کیوں نہیں آیا۔اگر کوئی دوسرا خدا ہو تا تو ہماری مدد نہ کرتا؟ آپ نے فرمایا۔تیر ابر احال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ محمد اللہ کار سول ہے۔کہنے لگا۔ابھی اس کے متعلق یقین نہیں ہوا۔حضرت عباس نے کہا۔کمبخت! کر لو بیعت۔اس وقت تیری اور تیری قوم کی جان بچتی ہے۔کہنے لگا اچھا! کر لیتا ہوں۔وہاں تو اُس نے یو نہی بیعت کر لی لیکن بعد میں جاکر سچا مسلمان ہو گیا۔خیر بیعت کر لی تو عباس کہنے لگے اب مانگ اپنی قوم کے لئے ورنہ تیری قوم ہمیشہ کیلئے تباہ ہو جائے گی۔مہاجرین کا دل اُس وقت ڈر رہا تھا۔وہ تو مکہ کے رہنے والے تھے اور سمجھتے تھے کہ ایک دفعہ مکہ کی عزت ختم ہوئی تو پھر مکہ کی عزت باقی نہیں رہے گی۔وہ باوجود اس کے کہ انہوں نے بڑے بڑے مظالم بر داشت کئے تھے پھر بھی وہ دعائیں کرتے تھے کہ کسی طرح صلح ہو جائے۔لیکن انصار اُن کے مقابلہ میں بڑے جوش میں تھے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔مانگو۔کہنے لگا۔يَا رَسُولَ اللہ ! کیا آپ اپنی قوم پر رحم نہیں کریں گے۔آپ تو بڑے رحیم و کریم ہیں اور پھر میں آپکا رشتہ دار ہوں،