انوارالعلوم (جلد 24) — Page 241
انوار العلوم جلد 24 241 سیر روحانی (7) سفر میں نہیں بلکہ اس سے پہلے ایک سفر میں ہم قلعہ میں گئے تو وہاں جو شاہی مسجد ہے اس دیکھنے کے لئے چلے گئے میرے ساتھ سارہ بیگم مرحومہ اور میری لڑکی ناصرہ بیگم تھیں۔میں نے کہا اس مسجد میں کوئی نماز نہیں پڑھتا چلو نماز پڑھ چلیں کبھی نہ کبھی کوئی نماز پڑھنے والا یہاں بھی آجانا چاہئے۔چنانچہ میں نے اُنکو ساتھ لیا اور وہاں نماز پڑھنی شروع کی۔چنانچہ ہماری نماز اور غیر احمدیوں کی نماز میں فرق ہوتا ہے وہ تو جیسے حضرت سیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے جس طرح مرغا دانے پھنتا ہے اسی طرح وہ کرتے ہیں اور ہمیں یہ حکم ہے کہ خشوع اور خضوع کے ساتھ نماز پڑھو۔غرض ہم جو نماز پڑھنے لگے تو ہم نے نصف یا پون گھنٹہ نمازوں میں لگا دیا۔میں ابھی نماز سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ جیسے کوئی جلدی جلدی جاتا ہے اس طرح میری بیوی اور میری بچی دونوں جلدی جلدی مجھے چھوڑ کے پیچھے ہٹ گئیں۔میں نے نماز سے سلام پھیرا اور باہر آیا تو ساره بیگم مرحومہ سے میں نے کہا کہ تم کیوں آگئی تھیں ؟ انہوں نے کہا یہاں کوئی اور مسافر عورتیں آئی ہوئی ہیں اور انہوں نے ہمیں اشارہ کر کے بلایا تھا جس پر ہم چلی گئیں۔پھر انہوں نے بتایا کہ ایک انجینئر ہیں ، وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر ولایت جارہے ہیں اور یہ جو بیٹی ہے یہ ایک احمدی سے بیاہی جانے والی ہے۔منگنی اس کی ہو چکی ہے اور لڑکا احمدی ہے۔ماں نے کہا کہ میری یہ بیٹی احمد یوں میں بیاہی جانے والی ہے اور ان کے امام یہاں آئے ہوئے ہیں اگر ان سے میرا خاوند مل لے تو ذرا تعلق پیدا ہو جائے گا کیونکہ آئندہ احمدیوں کے گھروں میں ہم نے جانا ہے اس لئے انہوں نے بلا یا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو وہ آپ سے بات کر لیں۔میں نے کہا آجائیں۔اس کے بعد ہم ذرا آگے کوئی جگہ دیکھنے کے لئے چل پڑے تو پھر چلتے چلتے یکدم میں نے دیکھا کہ میری بیوی اور بیٹی دونوں غائب ہیں۔میں نے مُڑ کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ پھر وہ عورتیں انہیں اشارہ کر کے لے گئی ہیں اور دو مرد کچھ قدم آگے آگئے۔میں نے سمجھا کہ یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے ملنا ہے۔پاس پہنچے تو انہوں نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا۔میں نے وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ کہا۔اور پوچھا کہ فرمایئے کیا بات ہے؟ اُن میں سے ایک نے کہا کہ اِس اِس طرح میری بیوی کو