انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 240

انوار العلوم جلد 24 240 سیر روحانی (7) پر جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرنا چاہتے تھے اور دوستی رکھنا چاہتے تھے مکہ سے حملے کرنے شروع کر دیئے۔اور وہ مسلمان جو اگاؤ کا سفر کر رہے ہوتے تھے اُن کو ٹوٹنا اور مارنا شروع کر دیا۔اس کے بعد پھر بدر کے موقع پر ایک با قاعدہ حملہ کر دیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ شروع کر دی مگر اس واقعہ کی ہجرت سے چار سال قبل آپ کو خبر دی جارہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ تمہیں حکومت ملے گی، تمہارے شہر میں لشکر داخل ہو گا اور سارے عرب کی فوجیں اکٹھی ہو کر آئیں گی مگر باوجود اس کے کہ وہ اکٹھے ہونگے تمہارا مقابلہ اُن سے ہو گا اور وہ شکست کھائیں گے۔آب دیکھو احزاب کی جنگ تو کہیں تو دس سال بعد ہوئی مگر کو دس سال پہلے بلکہ حکومت بننے سے بھی چار سال پہلے خبر دی گئی کہ اسطرح دشمن داخل ہو گا۔آب کجا یہ نوبت خانہ اور کجا وہ نوبت خانہ کہ دشمن اندر داخل ہو جائے تو بادشاہ کو خبر ہوتی تھی اور اتنی دیر میں وہ سو دو سو میل تک ملک پر قابض بھی ہو جاتا تھا۔کتنا بڑازمین و آسمان کا فرق ہے جو ان دونوں نوبت خانوں میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احزاب کے موقع پر جب سارا عرب اکٹھا ہو گیا اور اُس نے مدینہ پر حملہ کیا تو بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے دلوں میں تکلیف اور گھبر اہٹ پیدا ہوتی یا ڈر پیدا ہو تا اُن کے ایمان بڑھنے شروع ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے تو یہ خبر پہلے سے دی ہوئی تھی۔جب خدا نے پہلے سے خبر دی ہوئی ہے تو ان کے داخل ہونے سے ہمیں کیا ڈر ہے۔خدا نے کہا تھا کہ لوگ اکٹھے ہو کر حملہ کے لئے آئیں گے اور ہمیں امید بھی تھی کہ آئیں گے اور جب وہ بات پوری ہو گئی تو اگلی کیوں نہ پوری ہو گی۔یہ ایک بڑا بھاری نشان ہو تا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی اور اُن کی خرابیوں کے متعلق خبریں دیں اور پھر بتایا کہ اس کے بعد خدا تعالیٰ ایک ایسا زمانہ پیدا کرے گا کہ مسلمانوں کی تباہی دُور ہو جائے گی اور مسلمان پھر ترقی کرناشروع کر دیں گے۔ایک دوست کی بیعت کا دلچسپ واقعہ چنانچہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ میں دتی میں تھا، اِس