انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 231

انوار العلوم جلد 24 231 سیر روحانی (7) یہ طریق بڑا مفید تھا جو حکومت کی ہوشیاری اور اپنے فرض کے ادا کرنے پر تیار ہونے کی ایک علامت تھی۔کجا حیدر آباد دکن کا علاقہ جو ہزار میل یا اُس سے بھی زیادہ فاصلہ پر ہے اور کُجا یہ کہ چند گھنٹوں میں خبریں پہنچ جاتی تھیں۔اسی طرح پشاور سے دلی تک خبریں پہنچ جاتی تھیں اور بنگال سے دلی تک خبریں پہنچ جاتیں۔نوبت خانوں کی دوسری غرض نوبت خانوں کی دوسری غرض یہ ہوا کرتی تھی کہ جب بادشاہ کسی علاقہ پر حملہ کرنے کیلئے اپنے لشکر کو لیکر مرکز سے روانہ ہو تو اُس جہت میں رہنے والی تمام رعایا کو علم ہو جائے کہ شاہی لشکر آرہا ہے اور وہ بھی دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جائے۔چنانچہ جب بادشاہ کسی طرف حملہ کرتا تھا تو اُس طرف اُلٹی نوبت بجنی شروع ہو جاتی تھی۔مثلاً دتی سے بادشاہی لشکر نے روانہ ہونا ہے اور فرض کرو کہ حملہ اتنی وسیع جگہ پر ہو گیا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ بادشاہی فوجوں کا وہاں فوری طور پر پہنچنا ضروری ہے تو دتی میں نوبت پڑتی تھی اور پھر جس طرف آگے جانا ہو تا تھا اُس طرف کے نوبت خانے بجنے شروع ہو جاتے تھے۔غرض جس لائن پر نوبت خانے بجتے چلے جاتے تھے لوگوں کو معلوم ہو جاتا تھا کہ اس لائن پر لشکر نے جانا ہے۔اگر حیدر آباد کی طرف بادشاہ کا لشکر جارہا ہے تو پہلے ایک پڑاؤ پر نوبت بجے گی، پھر دوسرے پر بجے گی، پھر تیسرے پر بجے گی اور پھر بجتی چلی جائے گی اور جہاں تک نوبت بجے گی لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ بادشاہ نے کہاں تک آنا ہے۔اگر بنگال کی طرف شاہی لشکر نے جانا ہے تو پہلے مرکز میں نوبت پڑے گی اور پھر آگے نوبت پڑے گی اور پھر آگے نوبت پڑے گی، پھر پڑتے پڑتے بنگال والوں کو اطلاع ہو جائے گی کہ دتی سے بادشاہ کا لشکر چل پڑا ہے۔پشاور کی طرف حملہ ہوا ہو تو اُدھر خبر پہنچ جائے گی کہ دتی سے بادشاہ فوج لے کر چل پڑا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جیسے تاریں آجاتی ہیں کہ ہوائی جہازوں پر ایک دستہ آرہا ہے، اتنی فوج چل پڑی ہے اور فلاں جرنیل مقرر کیا گیا ہے تو اس سے فوج کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔اور اگر ایک فوج اپنے آپ کو کمزور بھی سمجھتی ہے اور وہ خیال کرتی ہے کہ وہ