انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 230

انوار العلوم جلد 24 230 سیر روحانی (7) اور ان کی کیا غرض تھی؟ اس پر مجھے معلوم ہوا کہ کچھ نو بتیں تو اس طرح رکھی گئی تھیں کہ وہ سر حدوں سے چلتی تھیں اور دتی تک آتی تھیں۔مثلاً جنوبی ہندوستان میں چند حکومتیں ایسی تھیں جو شروع زمانہ میں مغلوں کے ماتحت نہیں آئیں وہ ہمیشہ مغل بادشاہوں سے لڑتی رہتی تھیں اور جب بھی موقع پاتیں مغلیہ چھاؤنیوں پر حملہ کر دیتی تھیں۔اس غرض کے لئے انہوں نے تین تین چار چار میل پر جہاں سے وہ سمجھتے تھے کہ اُن کی آواز جا سکتی ہے نوبت خانے بنائے ہوئے تھے جو چلتے ہوئے دلی تک آتے تھے۔جس وقت سرحدات پر حملہ ہوتا تھا تو نوبت خانہ پر جو افسر مقرر ہوتے تھے وہ زور سے نوبت بجاتے تھے اُن کی آواز سُن کر اگلا نوبت خانہ نوبت بجانا شروع کر دیتا تھا، اس کی آواز تیسرے نوبت خانہ تک پہنچتی تو وہ نوبت بجانا شروع کر دیتا اس طرح دکن سے دتی تک چند گھنٹوں میں خبر پہنچ جاتی تھی۔گویا یہ ایک تار کا طریق نکالا گیا تھا اور اس سے معلوم ہو جاتا تھا کہ ملک پر حملہ ہو گیا ہے تو جس جہت سے نوبت خانوں کی آواز آتی تھی اُس جہت کا بھی پتہ لگ جاتا تھا۔بادشاہ فوراًلام بندی فی کا حکم دے دیتا تھا اور کسی جرنیل کو مقابلہ کے لئے مقرر کر دیتا تھا اور گھوڑ سوار فوراً چلے جاتے تھے جو جا کر خبر دیتے تھے کہ تم مقابلہ کرو۔اگر بھاگنا پڑے تو فلاں جگہ تک آجاؤ پھر ہماری اور فوج آجائے گی۔چنانچہ پھر فوج پہنچ جاتی تھی اور دشمن کا مقابلہ شروع ہو جاتا تھا۔یہ نوبت خانے ادھر بنگال سے چلتے تھے اور دتی تک جاتے تھے اور اُدھر پشاور سے چلتے تھے اور دتی تک آتے تھے۔جب کوئی حملہ آور ایران کی طرف سے آتا تھا تو پشاور کے پاس سے نوبت خانے بجنے شروع ہو جاتے تھے اور چند گھنٹوں میں دتی میں خبر پہنچ جاتی تھی کہ ادھر سے حملہ ہو گیا ہے۔اُن دنوں ملتان میں بڑی چھاؤنی تھی، پھر لاہور میں بڑی چھاؤنی تھی اور دتی تو خود مرکز حکومت تھا۔ان بڑی بڑی فوجی چھاؤنیوں کو حکم پہنچ جاتا تھا کہ اپنی فوجیں پشاور کی طرف بڑھانی شروع کر دو اور پھر دلّی سے دوسرے جرنیل بھی پہنچ جاتے تھے۔غرض نوبت خانوں کی غرض ایک تو یہ ہوا کرتی تھی کہ مرکز میں یہ خبر پر جائے کہ دشمن حملہ آور ہوا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں ابھی تار نہیں نکلی تھی