انوارالعلوم (جلد 24) — Page 220
انوار العلوم جلد 24 220 مردوں کو سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ جو ہم نے چندہ مقرر کیا ہے اُس کی ادائیگی کی طرف وہ توجہ کریں۔مثلاً ہفتے میں پہلے دن کی تجارت کا وہ نفع دے دیں یا جو بڑے تاجر ہیں وہ مہینے کے پہلے سودے کا دے دیں جو ملازم ہیں وہ جو سالانہ ترقی ملے وہ پہلی ترقی اُدھر دے دیا کریں جب کوئی بچہ ہو تو کچھ مسجد کے لئے دیویں۔مکان بنادیں تو کچھ مسجد کے لئے دیویں۔شادی کریں تو کچھ مسجد کے لئے دیویں زمیندار کے پاس جتنی زمین ہے اُس کی دو آنے فی ایکٹر شائد کاشت پر مقر ر ہے یا ساری زمین پر مجھے اس وقت یاد نہیں وہ چندہ دے دیا کریں۔مسجد کے لئے۔اور اسی طرح جو وکلاء اور ڈاکٹر ہیں اُن کے لئے بھی مجھے اس وقت پورا قاعدہ یاد نہیں مگر غالباً یہ ہے کہ جو اُن کی آمد پہلے سال کی تھی اُس کے بعد جو ترقی ہو اُس کا دسواں حصہ دے دیں اور اسی طرح مہینہ کی یا سال کا ایک دن مقرر ہے کہ اُس کی جو آمد پریکٹس کی ہو یا فیس کی ہو وہ دے دیا کریں۔تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اتنی معمولی بات ہے کہ اس قربانی کا کوئی پتہ بھی نہیں لگتا۔اب جس کو آج ترقی ملی ہے پانچ وہ اُس کو۔پندرہ سال کی ملازمت ہے تو اس کو پندرہ سال ملنی ہے۔ساٹھ روپے ایک سال میں بنتے ہیں پندرہ سال میں نو سو اُس کو ترقی ملنی ہے اس نو سو میں سے اُس نے صرف پانچ دینے ہیں خدا کے رستہ میں۔تو کتنی چھوٹی سی قربانی ہے۔اسی طرح ایک شخص نے 360 دن کمائی کرنی ہے۔ان 360 دنوں میں سے بارہ دن کی کمائی کا اُس نے صرف ایک سودے کا نفع دینا ہے۔یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے۔زمیندار کا دو آنے فی ایکڑ اگر کاشت پر ہے تو اور بھی کم ہو گیا۔قریباً 1 فی ایکڑ سمجھو۔تو یہ کتنی چھوٹی سی قربانی ہے۔اسی طرح شادی بیاہ وغیرہ پر لوگ خرچ کرتے ہیں پانچ سو، چار سو، د پچاس ہزار، دوہزار۔اُس وقت اگر پانچ یا دس روپے سلسلہ کے نام پر بھی دے دیئے جائیں تو کون سی بات ہے۔میں نے یہ کہا تھا کہ کم سے کم تم جو مجھ سے نکاح پڑھاتے ہو تو مسجد میں کچھ دے دیا کرو۔آخر فائدہ اٹھاتے ہو۔کچھ ان لوگوں نے دینا شروع کیا تھا اب تو میرے سامنے کسی نے نہیں دیا معلوم ہوتا ہے بھول گئے ہیں۔اب کل نکاح ہونگے