انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 214

انوار العلوم جلد 24 214 تیس چالیس من والے اور تین سو من والے کی نسبت ہی کیا ہو سکتی ہے آپس میں۔اگر فرض کرو آٹھ روپے کھانڈ ہے تو تم یہ سمجھو کہ تمہارا پا نچواں حصہ رہ جائیگی۔یعنی چھ من رہ گئی۔تمہاری قیمت بنے گی اڑتالیس روپے اور اُن کی قیمت بنے گی 480 روپے۔اس سے تو 480 یعنی دس گنے قیمت لینے والا جو ہے۔تمہارا کیا مقابلہ ہے۔وہ دس ایکڑ پر کام کرے گا اور اُس کی پانچ سو روپیہ کی مہینہ کی آمدن ہو گی تم دس ایکڑ کروگے اور 35 روپے مہینہ کی آمدن ہو گی۔دونوں کی کوئی نسبت نہیں۔اسی طرح مثلاً تمبا کو ہے۔مجھے ایک دفعہ چودھری ظفر اللہ خان کہنے لگے کہ اپنی اسٹیسٹوں پر تمباکو کا تجربہ کروائیں۔میں نے کہا چودھری صاحب ! ہم نے تمبا کو تو پینا نہیں تو یہ تجربہ کس طرح آجائے گا؟ تو ہنس پڑے کہنے لگے ایک شخص ریل میں مجھے ملا اور اس نے مجھے کہا تمبا کو بوائیں۔ہم نے مدراس میں اس کا تجربہ کیا ہے چار ہزار فی ایکٹر نفع آرہا ہے تو آپ کے پاس اتنی زمینیں ہیں اور زمینیں ایسے علاقہ کی ہیں جن میں تمباکو اچھا ہو سکتا ہے تو کہنے لگے میں نے بیساختہ وہی بات کہی جو آپ نے کہی ہے۔میں نے کہا ہم نہیں تمباکو پیتے تو ہم نے تمبا کو کیا بونا ہے۔تو کہنے لگا چودھری صاحب! آپ میری طرف دیکھئے۔(وہ سکھ تھا) ہم پیتے ہیں ؟ کہنے لگا ہم نے آمدن لینی ہے۔پینے والے پیتے ہیں چاہے ہم بوئیں یا وہ بوئیں۔جب دوسرے لوگ پیتے ہیں تو پھر ہمارا کیا نقصان ہے۔میں ہوتا ہوں میں نے تو پیسے لینے ہیں۔کہنے لگا چار ہزار ایکڑ ہم کو نفع ہو رہا ہے مدراس میں انگریزوں کے ساتھ مل کر میں کر رہا ہوں تو اگر آپ بوئیں تو آپکی تو پچاس ساٹھ لاکھ کی آمدن ہو سکتی ہے بجائے اس کے کہ ڈیڑھ لاکھ کی ہو۔پھر آلو ہیں یا ایسی اور کئی ترکاریاں ہیں، چیزیں ہیں جن کی بڑی بڑی قیمتیں آتی ہیں لیکن ہمارے لوگ کوشش اُن کے متعلق نہیں کرتے۔اب مجھے تجربہ کا پتہ نہیں لیکن میں سندھ گیا تو اب کے ہمارا ایک نوجوان جس نے فرقان فورس میں کام کیا ہوا تھا وہ بھی تحریک کی زمینوں پر ایک حصے کا منیجر تھا اُس نے مجھے اپنا باغ لگایا ہو اد کھایا۔اپنے شوق پر اُس نے لگایا ہوا تھا۔تو اُس نے اُس میں جا کر ہلدی یا شائد اورک دکھایا۔میں نے کہا