انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 194

انوار العلوم جلد 24 194 چونکہ پاکستان سے روپیہ کا پرمٹ لیا تھا وہ جو میری کاپی آئی ہے وہ اُن کو پیش کر دی جائے۔دوسری کاپی انڈو نیشیا پہنچی۔چنانچہ پرسوں سید شاہ محمد صاحب جو امیر ہیں وہاں کے اور رئیس التبلیغ ہیں اور یہاں آئے ہوئے ہیں اُن کو وہاں سے اخبارات پہنچ گئے ہیں۔اس کے اوپر انہوں نے بہت اعزاز کیا ہے فوراً انہوں نے وہاں کے پریذیڈنٹ کو دعوت دی کہ ہم پیش کرنا چاہتے ہیں اور اُس نے بھی فوراً منظور کیا۔تصویریں بھی چھپی ہوئی آئی ہیں کہ پریذیڈنٹ بڑے ادب سے کھڑا ہوا ہے لینے کے لئے اور ہمارا آدمی اُن کو قرآن دے رہا ہے۔اور پھر انہوں نے ریڈیو پر دو دفعہ اعلان کروایا۔پھر تمام بڑے بڑے اخباروں نے اُس پر مضمون لکھے جن میں کہا گیا کہ یہ بڑا عظیم الشان اور اہم کام ہے۔جرمن میں چھپ رہا ہے جو عورتوں کی طرف سے ہے۔وہ چونکہ ریوائز ہو چکا ہے اور وہ چھاپتے بڑی جلدی ہیں کیونکہ ڈچ قرآن کے متعلق ابھی دو مہینے ہوئے اطلاع آئی تھی کہ پریس میں گیا ہے اور اب چھپ کے کا بیاں بھی پہنچ گئی ہیں۔پریس کے معلوم ہوتا ہے کہ بہت بڑے انتظام ہیں وہ بھی امید ہے کہ اور تین مہینے میں شائع ہو جائیگا گویا اب ہمارے صرف پانچ ترجمے باقی ہیں۔ہاں انگریزی کا ترجمہ بھی اب خالی چھپ رہا ہے یعنی پہلے تو ایک تفسیر چھپ رہی ہے۔اس کے ساتھ صرف دیباچہ قرآن ہو گا اور انگریزی کا ترجمہ ہو گا۔اس کے علاوہ اسی سال ہمارا سواحیلی کا ترجمہ (جو افریقن زبان ہے اُس میں) شائع ہوا ہے اور اس کی وہاں خدا کے فضل سے بہت شہرت ہورہی ہے۔مولویوں نے فتوے دیئے کہ یہ کافروں کا ہے اس کو نہیں چھونا۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ چندہ غیر احمدیوں نے دیا ہے اور کثرت کے ساتھ وہ خرید رہے ہیں اور لوگوں میں تقسیم کر رہے ہیں یعنی ایک خاندان نے ساڑھے بارہ ہزار روپیہ چندہ دیا ہے اس کے لئے۔اور کوئی پچاس جلدیں خرید رہا ہے، کوئی 25 خرید رہا ہے کوئی 10 خرید رہا ہے ، کوئی 12 خرید رہا ہے۔مولویوں کو انہوں نے جواب دے دیا کہ یہ تو خدمتِ اسلام ہے اس میں ہم اُن کے ساتھ ملنے کے لئے تیار نہیں۔ملائی زبان کے متعلق میں شائد کل پر سوں کہہ چکا ہوں کہ تار پرسوں ہی