انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 193

انوار العلوم جلد 24 193 حالانکہ آج سے بہت تھوڑی جماعت تھی۔دولاکھ پینتالیس ہزار روپیہ کے قریب رقم اس میں جمع ہوئی گویا جو مانگی گئی تھی اُس سے بھی زیادہ۔اٹھائیس اٹھائیس ہزار قرآن کریم کے لئے تھا اور پانچ پانچ ہزار اسلامی اصول کی فلاسفی “ اور ایسی کتابوں کی اشاعت کے لئے۔تو سات کے حساب سے دولاکھ اکتیس ہزار بنتا ہے لیکن جمع غالباً دولاکھ پنتالیس یا چالیس ہزار ہو گیا تھا جو مانگے سے بھی زیادہ تھا۔اب ان سات ترجموں میں سے دو شائع ہو رہے ہیں۔ایک تو شائع ہو گیا ہے ڈچ زبان کا اور چونکہ ڈچ کی حکومت انڈونیشیا میں تھی اور انڈونیشیا میں خدا کے فضل سے ہماری بڑی معزز جماعت ہے اس لئے جب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ میرے پاس ترجمہ بھیجیں گے تو میں نے کہا ایک ڈچ کا ترجمہ جو پریذیڈنٹ ہے انڈو نیشیا کا، بادشاہ کا قائم مقام اُس کو بھی تحفہ کے لئے بھیجو۔اُن کے ملک کو اس زبان کے ساتھ انس ہے۔انہوں نے انگلستان میں دو ترجمے کتاب کے بھیجے اور اُن کو کہا کہ آپ یہ آگے بھجوا دیں۔انہوں نے ڈچ کے لحاظ سے جو ڈچ کی کمپنی ہوائی جہاز کی تھی اُس سے کر ذکر کیا کہ ہم اِس طرح قرآن بھجوانا چاہتے ہیں اور ساتھ قصہ بھی بتادیا کہ یہ چھپوایا ہے ہم نے۔اور ایک ہم اپنے امام کے پاس بھجوانا چاہتے ہیں اور ایک پریذیڈنٹ سکار نو کو پیش کرنے کے لئے اپنی جماعت کو دینا چاہتے ہیں کہ وہ سکار نو کو پیش کرے۔اُن پر تو اس کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں کہا یہ تو ہمارے لئے ایک بڑا تاریخی واقعہ ہے اور عزت کی بات ہے اس میں کوئی سوال تجارت کا ہے ہی نہیں۔ہم آپ کے امام کو بھی خود پہنچائیں گے اور وہاں بھی پہنچائیں گے۔آپ ہمارے پاس لائیے ہم آپ اس کی پیکنگ کریں گے اور آپ اس کو پہنچائیں گے آپ صرف اُن کو اطلاع دے دیں کہ ان کے نمائندے کراچی میں آکے لے لیں اور اُن کے نمائندے آکے ہم سے انڈونیشیا میں لے لیں۔چنانچہ انہوں نے کہا پیکینگ آپ نہ کریں ہم اپنے طریق پر خود کریں گے اُس کی شان کے مطابق۔چنانچہ انہوں نے قرآن دے دیئے۔پیکینگ اُنہوں نے کی۔ہم نے کراچی کو تار دے دیا ہماری جماعت والے وہاں گئے۔جس وقت ڈچ ہوائی جہاز آیا انہوں نے ان کے حوالے کر دیا اور وہ میرے پاس پہنچ گیا۔میرا ارادہ ہے کہ اگر گورنر جنرل اس کو منظور کریں تو