انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 152

متفرق امور انوار العلوم جلد 24 152 اعلان کیا ہے جنگ کا۔میں نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے ایک جنگ بتادیجئے کہ مصر پر یہودیوں نے حملہ کیا اور اُس وقت ابن سعود اور عراق کی حکومتوں نے ساتھ ہی حملہ کر دیا ہو یہودیوں پر۔یا شرق اردن کی فوجوں پر یہودیوں نے حملہ کیا ہو اور اسی وقت سلطان ابن سعود نے اور شام نے اور مصریوں نے حملہ کر دیا ہو۔میں نے کہا فوجی TACTICS تو یہ ہوا کرتی ہے کہ جو لشکر ایک سا تعلق رکھتے ہیں جب ایک مورچہ پر حملہ کریں تو وہ دوسرے پہلوؤں سے حملہ کر کے اُس کی طاقت کمزور کر دیتے ہیں۔تو ایک مثال دے دو۔اس پر وہ خاموش ہو گئے۔کہنے لگے یہ سچی بات ہے ہم بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے آپس کی رقابت کی وجہ سے تعاون نہیں کیا۔جب مصر پر حملہ ہوا تو منہ سے تو کہتے رہے عراق اور ابن سعود اور شامی کہ ہم آتے ہیں لیکن آئے نہیں۔جب شام پر حملہ ہوا تو عراق اور مصر وغیرہ منہ سے تو کہتے رہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن اس وقت حملہ نہیں کیا۔ابھی مثلاً پیچھے مصر پر حملہ ہوا ہے تو ریزولیوشن پاس ہو رہے ہیں حملہ نہیں ہوا۔اردن پر حملہ ہوا۔ریزولیوشن پاس ہو رہے ہیں باقی ملکوں نے حملے نہیں کئے۔شام پر پیچھے خطرناک حملہ ہوا ( پیچھے دو سال پہلے) لیکن شرق اردن اور عراق اور مصر اور ابن سعود یہ بیٹھے رہے۔ہم سمجھتے ہیں ان کو مجبوریاں ہوں گی لیکن یہ کہ ان مجبوریوں کی وجہ سے نتیجہ تو خراب ہی نکلے گا۔تو فلسطین کا معاملہ ایک قیامت تھی تکلیف دہ معاملہ ہے اسی طرح مثلاً لیبیا ہے انگریزوں نے لیبیا کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے کہ ہم اپنی فوجیں رکھیں گے اب مصر یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف سویز کی طاقت کو بڑھانے کے لئے انگریز یہاں فوجیں رکھ رہا ہے کیونکہ مصر کے پہلو میں ہے لیبیا۔اُن کی منشاء یہ ہے کہ اگر ہم سویز پر حملہ کریں تو یہ پیٹھ پر سے ہم پر حملہ کر دیں تو وہ لیبیا سے معاہدہ کے خلاف ہیں۔لیکن ادھر لیبیا کے لئے مصیبت یہ ہے کہ اُن کے پاس پیسہ نہیں وہ جنگل ہے جب تک دس پندرہ لاکھ روپیہ سالانہ انگلستان نہ دیوے وہ نہ تو وزیروں کو تنخواہ دے سکتے ہیں نہ تحصیلداروں کو دے سکتے ہیں نہ ڈپٹی کمشنروں کو دے سکتے ہیں اُن کے پاس پیسہ ہی نہیں ہے۔فوج بھی نہیں رکھ سکتے۔وہ مصر کے اعتراض کو سنتے ہیں اور اُس کو نظر انداز پر