انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 149

انوار العلوم جلد 24 149 انڈو نیشیا آزاد ہو گیا۔لیبیا آزاد ہو گیا۔شام، فلسطین، عراق آزاد ہو گئے۔عراق جو تھا پہلے ٹرکی کے ماتحت تھا اس کو تو کوئی خاص آزادی نہیں ملی لیکن شام اور فلسطین فرانسیسیوں کے ماتحت تھے ان کو آہستہ آہستہ آزادی ملی۔تو اس آزادی کے ملنے کی وجہ سے طبیعت میں ایک احساس پیدا ہو گیا جیسے بچہ ہوتا ہے پیٹ میں نو مہینے بغیر سانس کے گزار دیتا ہے پر پیدا ہوتے ہی وہ سانس لیتا ہے۔سانس کے بعد پھر نہیں چھوڑ سکتا اُس کو۔وہاں تو 9 مہینے بغیر سانس سے گزار لیتا ہے اور یہاں 9 منٹ بغیر سانس کے نہیں گزار سکتا۔کیونکہ اب پھیپھڑے جو ہیں اُن میں ہلنے کی عادت پیدا ہو گئی ہے وہ نہیں ہلیں گے تو ساتھ ہی قلب بند ہو جائے گا۔تو یہی حالت اُس قوم کی ہوتی ہے جو کہ عادی طور پر شست ہوتی ہے۔گری ہوئی ہوتی ہے جب اُسے ذرا ہوا آزادی کی ملے ، جب ذرا طاقت کی روح پیدا ہو اُس وقت پھر اُس کو خطرہ پیدا ہو تو وہ زیادہ خطر ناک اور زیادہ مایوسی پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔اس وقت مختلف مسلمان ممالک جو ہیں وہ مختلف مصائب میں سے گزر رہے ہیں مثلاً مصر ہے اُس میں سویز کا جھگڑا پیدا ہے اور بعض جھگڑے ایسی الجھنوں کے ساتھ ہیں کہ سمجھ بھی نہیں آتی کہ اس کا بنے گا کیا۔مثلا طبعی طور پر میں کمیونزم کا مخالف ہوں بہت سے مسلمان نہیں بھی مخالف۔بہت سے مسلمان کمیونسٹ بھی ہیں لیکن میں کمیونزم کا مخالف ہوں۔جب میں کسی جگہ پر ایسی حالت دیکھوں کہ کسی جگہ پر مسلمانوں کو ادھر آزادی ملتی ہے اُدھر کمیونسٹ کو بھی طاقت ملتی ہے تو میر ادل گھبر اجاتا ہے میں کہتا ہوں یہ بھی بلاء وہ بھی بلاء۔یہی مثال ہو جاتی ہے کہ کہتے ہیں نہ بولوں تو باپ کتا کھائے بولوں تو ماں ماری جائے۔اگر ہم مسلمان کی آزادی چاہتے ہیں تو کمیونسٹ کو طاقت ملتی ہے اگر ہم کمیونسٹ کو نقصان پہنچاتے ہیں تو مسلمان کی آزادی چلی جاتی ہے یہ دو بلائیں ایسی ہیں کہ ہم ان کو لے نہیں سکتے۔کیا کریں۔تو پھر طبیعت میں بڑی گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔یہی حال مصر کے متعلق پیدا ہے۔مصر میں انگریزوں نے فوج مصر کی خاطر نہیں رکھی بلکہ انہوں نے اِس لئے رکھی ہوئی ہے کہ اُن کی معلومات یہ بتاتی ہیں اور مذہب کی جو خبریں اور پیشگوئیاں ہیں وہ بھی بتاتی ہیں کہ روس نے مڈل ایسٹ پر حملہ کرنا ہے۔تو رات میں یہ