انوارالعلوم (جلد 24) — Page 145
انوار العلوم جلد 24 145 جاتا ہوں۔اُس سے بات پوچھتا ہوں، کوئی حال پوچھتا ہوں اور واقفیت ہوتی جاتی ہے لیکن باقی ضلع جو ہیں میں نے دیکھا ہے اُن میں یہی چال چلتی ہے وہ آگے بیٹھ گئے اور اس کے بعد ملاقات کرنے والے چلنے شروع ہوئے۔بیچارے کو کچھ دھکے پچھلے دے رہے ہیں کچھ اگلے دے رہے ہیں وہ اپنا بیٹھا ہے کہ میں تو بیٹھا دیکھ رہا ہوں اور باتیں کر رہا ہوں یہ جہنم میں جاتے ہیں تو جائیں۔تو یہ بڑا غلط طریقہ ہے اس کے ساتھ ملاقات کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا۔اور یہ جو غرض ہے کہ وہ شخص واقف ہو جائے پوری نہیں ہو سکتی۔مثلاً بعد میں اگر میر اواقف ہوتا ہے اور دعا کے لئے تحریک ہوتی ہے تو ناواقف کی نسبت واقف کے لئے دعا کی تحریک زیادہ ہوتی ہے۔وہ جب کہہ جاتا ہے مجھے یاد آجاتا ہے مثلاً اس کی شکل یا مثلاً اُس نے کہا میرے اولاد نہیں ہوتی۔میں نے اس سے حال بھی پوچھا کہ تمہاری شادی کب کی ہوئی ہوئی ہے ؟ تو اس نے کہا جی ہیں سال ہو گئے ہیں دوسری بھی شادی کی مگر اولاد نہیں ہوئی۔اب یہ نقشہ میرے ذہن میں ہوتا ہے جب اُس کا نام میرے سامنے آتا ہے میں سمجھتا ہوں اس شخص کے بیس سال ہو گئے ہیں دو شادیاں بھی کیں پھر بھی اولاد نہیں ہوئی پس جو اس کے لئے درد پیدا ہوتا ہے دوسرے کے لئے نہیں۔خالی یہ کہ وہ شخص آگیا جس کے میں حالات نہیں جانتا اس سے کیا فائدہ۔میں بعض دفعہ سمجھتا ہوں خیر ہے دو سال ہوئے ہوں شادی پر اور گھبر ایا پھر رہا ہے تو کوئی تحریک بھی اس کے لئے دعا کی نہیں ہوتی یا سرسری دعا کی جاتی ہے۔تو واقفیت حالات کے ساتھ دعا کی تحریک جو ہے وہ بہت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔تو اُس زمانہ میں یہ بڑا فائدہ اٹھایا جاتا تھا لیکن اب وہ بات بھول گئی ہے اور ایسا نہیں ہوتا۔پس میں دوستوں کو اصرار کرتا ہوں کہ جب وہ آئیں تو اپنے لیڈر کو پہلے پکڑ لیویں کہ یا تو ہمارا نام بتاؤ نہیں تو ہم وہیں کہہ دیں گے کہ یہ ہمیں نہیں پہچانتا اس کو اٹھا دو تو ہم اس کو اٹھا دیں گے۔مگر ہمارے لئے ذرا مشکل ہے کہ تم اس کو لیڈر بنا کے لاؤ، تم چپ کر رہو اور ہم کہیں کہ اٹھ جاؤ تو یہ ٹھیک نہیں لگتا۔تم اپنے لیڈر کو پہلے کہہ کر لایا کرو کہ یاتو ہمیں پہچان اور ہمارا انٹر ڈیوس کروائیو۔اگر نہیں پہچاننا اور نہیں انٹروڈیوس کرانا تو ہم نے وہاں کہہ دینا ہے کہ یہ آدمی ہمارا لیڈر