انوارالعلوم (جلد 24) — Page 137
انوار العلوم جلد 24 137 متفرق امور سمجھ یہ رہے ہیں کہ قرآن بیچ کر وہ گزارہ کیا کرتا تھا۔قرآن اُس نے ساری عمر مثلاً سات یا آٹھ ، دس یا میں لکھے تھے ان سے ساری عمر اس نے گزارہ بھی کیا اور ان میں گھوڑے بھی خریدے اور اس نے موتی بھی خریدے اور کھانا بھی کھایا اور خاندان کو بھی کھلایا۔یہ پاگلوں والی بات ہے۔لیکن اچھے معقول آدمی یہ کہتے ہیں۔حالانکہ بات یہ ہے کہ ہمارے پرانے زمانہ میں یہ نصیحت کی جاتی تھی کہ انسان کو اپنے اس پیشہ کے علاوہ جو اُس کا پروفیشن ہے اپنے ہاتھ کی کچھ کمائی بھی پیدا کرنی چاہئے تاکہ غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ اُس کا جوڑ رہے۔تو اس لئے کرتے تھے یہ نہیں کہ وہ اس سے گزارہ کرتے تھے۔پھر جو آیا اُس کی کوئی چیز لے کر کسی غریب کو دے دی۔ہمارے بڑے بڑے بزرگ اور صوفیاء کے متعلق آتا ہے کہ کوئی رسی بٹتا تھا۔کوئی دوسرے کام کر تا تھا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسی سے گزارے کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی پیشہ اپنا ایسا رکھنا چاہتے تھے ہاتھ کا جس کی وجہ سے غریب اور امیر کا امتیاز مٹتا چلا جائے۔تو عورتوں میں میں یہ تحریک کرتا ہوں اور لجنہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ اس پر غور کر کے سب سے پہلے تو وہ قادیان میں شروع کرے دوبارہ فرمایا ربوہ میں شروع کرے) قادیان میں کیوں نہیں؟ قادیان میں بھی جانا ہے۔تو ربوہ میں کریں، قادیان میں کریں۔اور اس کے بعد پھر اس کا انتظام کریں کہ ایک ایک گاؤں دو دو گاؤں تقسیم کر کے پھر وہاں جائیں اور وہاں جاکے وہاں کی عورتوں کو ٹرینڈ کر کے اُن کو کسی کام پر لگائیں۔عورتوں کے لئے بڑے اچھے کام جو ہوتے ہیں جو بڑی آسانی سے کئے جاسکتے ہیں وہ یہی ہیں سوت کا تنا۔پر اندے بنانا۔ازار بند بنانا۔چھوٹی دریاں بنانا۔قالین بنانا۔یہ ایسے کام ہیں۔قالین تو ہمارے قادیان میں میرے پاس ہوا کرتی تھی اور اکثر ملاقاتیں دوست اس کے اوپر کیا کرتے تھے وہ ایک نابینا عورت نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنا کر دی تھی۔وہ نابینا تھی لیکن خوب خانے بھی بنے ہوئے تھے اور رنگ بھی دیئے ہوئے تھے۔تو قالین ایک نابینا بنا سکتا ہے تو دوسرے لوگ کیوں نہیں بنا سکتے۔ایسے ہی اور کئی کام نکل سکتے ہیں لیکن ہاتھ سے کر کے۔اس سے کمائی بھی کی جاسکتی ہے۔مثلاً یہی ہے جیسے