انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 82

انوار العلوم جلد 24 82 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی میرے نزدیک اس جلسہ کی بنیاد صرف یہ ہونی چاہئے کہ ایک مسلمان کہلانے والی سلطنت کو جس کے سلطان کو مسلمانوں کا ایک حصہ خلیفہ بھی تسلیم کرتا ہے مٹا دینا یا ریاستوں کی حیثیت دینا ایک ایسا فعل ہے جسے ہر ایک فرقہ جو مسلمان کہلاتا ہے نا پسند کرتا ہے اور اس کا خیال بھی اس پر گراں گزرتا ہے اس صورت میں تمام فرقہ ہائے اسلام اس تحریک میں شامل ہو سکتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ خلافتِ عثمانیہ کے قائل نہ ہوں بلکہ باوجود اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے اور سمجھتے ہوں اس اصل پر متحد ہو کر یک زبان ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں کیونکہ گو ایک فریق دوسرے فریق کو کافر سمجھتا ہو مگر کیا اس میں کوئی شک ہے کہ دُنیا کی نظروں میں اسلام کے نام میں سب فرقے شریک ہیں اور اسلام کی ظاہری شان و شوکت کی ترقی یا اس کو صدمہ پہنچنا سب پر یکساں اثر ڈالتا ہے۔ضروری بات یہ ہے کہ مناسب مشورہ کے بعد اس غرض کے لئے ایک کو نسل مقرر کی جائے جس کا کام ترکی حکومت کی ہمدردی کو عملی جامہ پہنانا ہو صرف جلسوں اور لیکچروں سے کام نہیں چل سکتا، نہ روپیہ جمع کر کے اشتہاروں اور ٹریکٹوں کے شائع کرنے سے، نہ انگلستان کی کمیٹی کو روپیہ بھیجنے سے بلکہ ایک با قاعدہ جد وجہد سے جو دُنیا کے تمام ممالک میں اس امر کے انجام دینے کے لئے کی جائے“۔اگر کسی کامیابی کی اُمید کی جاسکتی ہے تو اسی طرح کہ چند آدمی اسلام کے واقف فرانس میں رکھے جائیں۔۔۔۔۔کچھ لوگ امریکہ جائیں اور وہاں اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ اسلام سے وہاں کے لوگوں کو واقف کرنے کے علاوہ تمام ملک کے وسیع دورے کریں۔۔۔۔۔اور ساتھ اس امر کی طرف بھی توجہ دلائیں کہ ترکوں سے جو