انوارالعلوم (جلد 24) — Page 54
انوار العلوم جلد 24 54 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی (4) مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری نے فتویٰ دیا کہ :- ”جو شخص ثابت ہو کہ واقعی وہ قادیانی کا مرید ہے اس سے 119 رشتہ مناکحت کارکھنانا جائز ہے“۔9 اسی قسم کے بیبیوں فتوے بعد میں استنکاف المسلمين عن مخالطة المرزائیین، سیف الرحمن على رأس الشيطان، القول الصحيح في مكائد المسیح، مہر صداقت مصنفہ حاجی محمد اسمعیل صاحب لکھنوی، فتوی شرعیہ شائع کردہ دفتر الاسلام لاہور، صاعقہ ربانی بر فتنه قادیانی مصنفہ مولوی عبدالسمیع صاحب بدایونی، واقعات بھد روا شاہی جاگیر مصنفہ قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی اور متفقہ فتاوی علماء دیوبند بابت فرقہ قادیانی و غیره میں بار بار شائع کئے گئے ہیں۔انہی فتوؤں کا یہ نتیجہ تھا کہ جماعت احمدیہ کے افراد مسجدوں سے نکالے گئے، ان کی عورتیں چھینی گئیں اور ان کے مُردے تجہیز و تکفین اور جنازہ کے بغیر گڑھوں میں دبائے گئے۔چنانچہ ہم اس کے ثبوت میں ایک غیر احمدی عالم مولوی عبد الواحد صاحب خانپوری کا بیان پیش کرتے ہیں جو اُنہوں نے 1901ء میں شائع کیا۔وہ بانی سلسلہ احمدیہ کے اشتہار الصُّلْحُ خَیر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔مخفی نہ رہے کہ باعث اس صلح نامہ کا یہ ہے کہ جب طائفہ مرزائیہ امرتسر میں بہت خوار و ذلیل ہوئے۔جمعہ و جماعت سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں قیصری باغ میں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکما رو کے گئے تو نہایت تنگ ہو کر مرزا قادیانی سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کریں تب مرزا نے ان کو کہا کہ صبر کرو میں لوگوں سے صلح کرتا ہوں۔اگر صلح ہو گئی تو مسجد بنانے کی کچھ حاجت نہیں اور نیز اور بہت قسم کی ذلتیں اُٹھائیں۔معاملہ و برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا، عورتیں منکوحہ و مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے۔