انوارالعلوم (جلد 24) — Page 53
انوار العلوم جلد 24 53 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ “ کا جواب اونچا ہوتا ہے لیکن جب مسلمانوں کی ہر قوم اور ہر قبیلہ عملاً ایسا کر رہا ہے تو پھر اگر احمدیوں نے ایسا کر لیا تو اس پر کیا اعتراض ہے ؟ احمد یوں کو رشتے نہ دینے کا فتویٰ پھر کیا مولانا یہ بھول گئے ہیں کہ اس پہلے خود غیر احمدی علماء نے دیا میں بھی ابتداء باصطلاح مودودی صاحب وو علماء دین و مفتیان شرع متین “ نے کی ہے۔ اگر مولانا مودودی صاحب کو دوسروں کا لٹریچر پڑھنے کا موقع نہیں ملا تو ہم ان کے علم کی زیادتی کے لئے ذیل میں چند حوالہ جات درج کرتے ہیں :- (1) مولوی عبداللہ صاحب اور مولوی عبد العزیز صاحب مشہور مفتیان لدھیانہ نے اپنے اشتہار مورخہ 29 رمضان 91-1890ء میں یہ فتویٰ شائع کیا کہ :- یہ شخص (یعنی بانی سلسلہ احمدیہ) مرتد ہے اور اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔ اسی طرح جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرلے“۔ 116 یعنی احمدیوں کی بیویوں کو جبر ا دوسری جگہ بیاہ دینا بھی عین ثواب ہے۔ (2) قاضی عبید اللہ ابن صبغۃ اللہ صاحب نے 1893ء میں فتوی دیا کہ :- ”جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد کہ پیدا ہوتے ہیں وہ ولد الزنا ہوں گے“۔117 (3) مجموعه کفریات مرزا غلام احمد قادیانی میں لکھا گیا کہ :- نکاح فسخ ہے اگر ایسے شخص کے نکاح میں مسلمان عورت ہو تو اس کا فسخ ہے اور اُس کی اولاد ولد الزنا ہے۔ اس کی عورتِ مسلمہ کا دوسرے شخص کے ساتھ بلا عدت نکاح کرنا جائز ہے “۔ 118