انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 42

انوار العلوم جلد 24 42 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ “ کا جواب (4) مفتی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ :- ”جس نے دیدہ دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس کو اعلانیہ توبہ کرنی چاہئے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدید نکاح کرے اور حسب طاقت کھانا کھلائے۔ اگر وہ ایسانہ کرے گا تو اہل سنت و الجماعت کو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہئے۔ ایسے منافق کے پیچھے نماز درست نہیں ہوتی۔ 27 اس فتویٰ پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بھی مہر تصدیق ثبت ہے اور یہی فتوى الْأَعْلَامِ مِنَ الْعُلَمَاءِ الرَّبَّانِيِّينَ فِي عَدْمِ جَوَازِ صَلوةِ الْجَنَازَةِ الْقَادِيَانِيِّينَ شائع کردہ مولوی محمد شمس الدین صاحب جالندھری کے صفحہ 4 پر بھی درج کیا گیا ہے۔ (5) مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے بھی حسام الحرمین صفحہ 95 پر احمدیوں کے جنازہ کی نماز پڑھنی ممنوع قرار دی ہے۔ پھر یہیں تک بس نہیں انہوں نے یہ فتویٰ بھی دیا کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ ہونے دیا جائے چنانچہ (1) مولوی عبد الصمد صاحب غزنوی نے لکھا:- وو ” یہ شخص اسی اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ یہ مسلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے تاکہ وہ اہل قبور اس سے ایذاء نہ پائیں “۔ 28 (2) قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ صاحب مدراسی نے ۱۸۹۳ء میں فتویٰ دیا کہ جب کوئی احمدی مر جائے تو :- ” اس کو مقابر اہل اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل و کفن کے کتے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا۔ اشباہ والنظائر میں ہے وَإِذَامَاتَ أَوْ قُتِلَ عَلَى رَدَّتِهِ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ وَلَا أَهْلِ مِلَّةِ فَإِنَّمَا يُلْقَى فِي حُفْرَةٍ كَالْكَلْبِ اور بحر الرائق میں ہے۔