انوارالعلوم (جلد 24) — Page 41
انوار العلوم جلد 24 41 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی غیر احمدی علماء کے فتوے کہ (6-ب) اب رہا یہ سوال کہ احمدیوں احمدیوں کے جنازے جائز نہیں نے ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں سمجھا۔سو یہ فتویٰ بھی پہلے غیر احمدی علماء نے دیا وو تھا کہ احمدیوں کا جنازہ پڑھنانا جائز ہے بلکہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دینا بھی ناجائز ہے۔جب دس سال تک متواتر منت سماجت کرنے کے بعد بھی باصطلاح مودودی صاحب علماء دین و مفتیانِ شرع متین“ نے اپنے ان فتوؤں میں اصلاح نہ کی تو مجبوراً احمدیوں کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا کہ احمدی جماعت کے لوگ ایسے شدید معاندین اور مخالفین کا جنازہ نہ پڑھیں جو جماعت احمد یہ اور اس کے بانی کو کافر کہتے ہیں، ملحد کہتے ہیں، دجال کہتے ہیں اور جو اپنے مقبروں میں ان کے دفن ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔مولانا فرمائیں افتراق کا دروازہ ان کے اسلاف ”مفتیانِ دین اور علماء شرع متین نے کھولا یا احمدیوں نے کھولا۔کیا 1892ء میں ایسا فتویٰ دینے والوں نے اختلاف اور افتراق پیدا کیا یا 1902ء میں مجبور ہو کر ان کا جواب دینے والے نے اختلاف اور افتراق کا دروازہ کھولا؟ اگر مولانا کو اپنے علماء دین اور مفتیانِ شرع متین“ کے فتوے وو دیکھنے کا موقع نہ ملا ہو تو وہ ذیل کے فتوؤں کو مد نظر رکھ لیں:۔(1) مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا :- مسلمانوں کو چاہئے ایسے دجال، کذاب سے احتراز اختیار کریں۔۔۔۔۔نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں“۔94 (2) مولوی عبد الصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا:- جائے“۔95 ” یہ شخص اسی اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی (3) قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا:- جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد ہے۔۔۔۔۔اور مر تد بغیر تو بہ کے مر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا“۔26