انوارالعلوم (جلد 24) — Page 571
انوار العلوم جلد 24 571 سال 1954ء کے اہم واقعات میری خلافت پر ہی چالیس سال گزر چکے ہیں اگر چالیس سال میں ہی ہر سال تم ایک خُلق اختیار کر لیتے تو چالیس اخلاق تمہارے اندر پیدا ہو جاتے اور تم سمجھتے ہو کہ چالیس اخلاق کی کتنی بڑی طاقت ہوتی ہے در حقیقت اتنی بڑی طاقت کا مقابلہ کر ناد نیا کے لئے بڑانا ممکن ہوتا ہے۔لیکن افسوس تو یہ ہے کہ لوگ آئے اور لوگوں نے سنا اور چلے گئے اور کسی نے عمل نہیں کیا، کسی نے پرواہ نہیں کی۔کہہ دیا کہ بڑی اچھی تقریر ہو گئی ہے یا یہ کہہ دیا کہ آج تو بڑی لمبی تقریر ہو گئی مثانہ پھٹنے لگا تھا، کسی نے کہہ دیا کہ میری تو طبیعت خراب تھی میں تو اٹھ کر چلا گیا تھا۔اس سے آگے بات ختم ہو جاتی ہے پھر فائدہ کیا ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ترقی کی اصل وجہ یہی تھی کہ لوگ جو بات سنتے تھے اُس کو پکڑ لیتے تھے اور پھر اس کو اتنی انتہا تک پہنچاتے تھے کہ ہر دیکھنے والا شخص سمجھتا تھا کہ یہ بات اس کے اند ر راسخ ہو گئی ہے۔بہر حال یہ یادر کھو کہ سب سے مقدم چیز انسانی اعمال میں اخلاق قومی ہوتے ہیں۔جب تک قوم میں اخلاق پیدا نہ ہو جائیں اُس وقت تک نہ دین درست ہوتا ہے نہ دنیا درست ہوتی ہے۔میں کہتا ہوں جیسے ابھی میں نے ایک اور مسئلہ پر بھی کہا تھا کہ تم یہ تو سوچو کہ قرآن کریم نے اخلاق فاضلہ کے سیکھنے کی نصیحت کی ہے۔تم یہ جانے دو کہ میں تمہیں اخلاق فاضلہ کی جو تعبیر بتاتا ہوں تم کہو وہ غلط ہے۔تم یہ جانے دو کہ وہ اخلاق فاضلہ جن کو میں اخلاق فاضلہ قرار دیتا ہوں ان کے متعلق تم کہہ دو کہ یہ غلط ہیں یہ نہیں ہیں اخلاق فاضلہ۔پر آخر یہ تو قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ تقویٰ ایک چیز کا نام رکھا گیا ہے اور بعض کاموں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ اچھے ہیں۔مثلاً بتایا گیا ہے کہ مومن سچ بولتے ہیں، بتایا گیا ہے کہ مومن متکبر نہیں ہوتے، بتایا گیا ہے کہ مومن مسرف نہیں ہوتے، یہ بتایا گیا ہے کہ متقی انصاف کرنے والے ہوتے ہیں، یہ بتایا گیا ہے کہ وہ سچی شہادت دینے والے ہوتے ہیں، یہ بتایا گیا ہے کہ چوری نہیں کرتے ، ڈا کہ نہیں مارتے، زنا نہیں کرتے۔اسی طرح اور کئی باتیں نہیں کرتے اب تم مجھ سے کتنا بھی اختلاف کر لو، ساری دنیا سے اختلاف کر لو۔کہو سچ کے معنے جو تم کرتے ہو غلط ہیں یہ نہیں سچ کے معنے۔تم یہ کہہ سکتے