انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 569

انوار العلوم جلد 24 569 سال 1954ء کے اہم واقعات اور ایک لڑکا وہ آپ بھی پھر بعد میں نہیں پڑھ سکتے۔میر اوہ لڑکا ایک کالج میں پڑھتا تھا۔یونیورسٹی کی کانووکیشن کا جلسہ تھا میں بھی اس میں شریک تھا۔مجھ سے کسی نے اس کالج کے پرنسپل کو ملوایا۔میں نے کہا میں انہیں جانتا ہوں یہ ناصر احمد صاحب کے دوست ہیں۔وہ کہنے لگے ناصر احمد کی دوستی کا کیا تعلق ہے اپنے فلاں بچے کا نام کیوں نہیں لیتے وہ میرا شاگر د ہے۔میں نے کہا میں نے تو جان کر نام نہیں لیا کہ آپ کو شرم نہ آجائے کہ ایسا شاگر د ہے آپ کا۔کہنے لگا نہیں بات اصل میں یہ ہے کہ وہ جانتا خوب ہے لیکن اس کا لکھا ہوا کوئی بھی نہیں پڑھ سکتا۔اس لئے لازما وہ فیل ہوتا ہے کہنے لگے ہم بعض دفعہ اس کو بلا کر کہتے ہیں کہ یہاں پرچہ پڑھ دو تو وہ کہتا ہے اب مجھ سے نہیں پڑھا جاتا۔وہ کس طرح پاس ہو سکے۔باقی پریکٹیکل خوب جانتا ہے ہم نے اس پر سوالات کر کے دیکھا ہے وہ خوب سمجھتا ہے۔غرض اردو اگر تم سکھا دو تو لازم تمہار اسٹینڈرڈ اور معیار تعلیم بہت اونچا ہو جائے گا۔یہ مت پروا کرو کہ تمہارا کوئی باقاعدہ مدرسہ ہو چاہے درخت کے نیچے رکھو بہر حال پڑھانا شروع کرو۔ٹیگور نے اس نکتہ کو سمجھا تھا اور اس نے ایک درخت کے نیچے اپنا سکول کھول دیا تھا اور دنیا جہان سے اس کے پاس شاگر د آتے تھے تو سادگی کے ساتھ تعلیم وسیع ہو سکتی ہے۔لیکن اگر تم وہ انتظام کر وجو حکومتیں کرتی ہیں تو تم یہ دیکھ لو کہ ایک اچھے سکول کے جو معیار گورنمنٹ نے رکھے ہوئے ہیں۔ان کے لحاظ سے ایک کلاس میں حد سے حد پچاس طالب علم ہوتے ہیں اگر ہمارے ملک کے دس فیصدی طالبعلم پڑھنے والے ہوں تو چونکہ آٹھ کروڑ ہماری آبادی ہے وہ اسی لاکھ ہو گئے۔پچاس لڑکے اگر ایک کلاس میں ہوں تو اسی لاکھ کے معنی یہ ہوئے کہ سوالا کھ مدرس چاہئے۔گویا سوالا کھ مدرس کے ساتھ اتنے لڑکے پڑھ سکتے ہیں اور سوالا کھ مدرس ملنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔پھر سوالا کھ مدیرس کا ہی سوال نہیں سوال یہ ہے کہ ایک کلاس میں اگر پچاس لڑکے ہوں تو مڈل تک کی تعلیم سمجھ لو تو چار سو لڑکا ہو گیا۔اور چونکہ اسی لاکھ طالبعلم ہوں گے اس لئے بیس ہزار سکول ہوں تو ان کی تعلیم کا انتظام ہو سکتا ہے اور آجکل کی عمارتوں کا جو