انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 567

انوار العلوم جلد 24 567 سال 1954ء کے اہم واقعات لکھیں یا دوسری کتابوں کا ترجمہ کریں۔تو ہمیں آدمیوں کے ذریعہ سے آٹھ کروڑ کی پڑھائی کا انتظام ہو جاتا ہے لیکن یوں اگر آٹھ کروڑ کو پڑھانے لگیں اور سوسو پر بھی ایک ٹیچر ہو تو آٹھ لاکھ ٹیچر چاہئے۔آٹھ لاکھ ٹیچر تمہارے پاس کہاں سے آئے گا؟ لیکن اگر اپنی زبان میں تراجم کرائے جائیں، اگر اپنی زبان میں کتابیں لکھ دی جائیں تو آپ ہی آپ سارے پڑھتے ہیں۔جتنے بڑے بڑے سائنٹسٹ ہیں یا بڑے بڑے فلاسفر ہیں ان کی زندگیوں کے حالات پڑھ لو تو ان میں سے بیشتر حصہ ایسے لوگوں کا نکلے گا جنہوں نے ابتدائی تعلیم بہت معمولی حاصل کی ہو گی۔انگلستان کا سب سے بڑا ادیب ڈاکٹر جانسن ہے۔اس کی زندگی کے حالات پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ وہ شاید مڈل تک پڑھا ہوا تھا اور اسی میں اس نے سلف سٹڈی (SELF STUDY) کے ساتھ اور مطالعہ کے ساتھ ترقی کی۔یہاں تک کہ اب لغت انگریزی کاسب سے بڑا مدون وہی ہے ، سارے کے سارے اس کی خوبی کو مانتے ہیں۔اسی طرح شیکسپیئر ہے اوّل تو اس کے حالات ہی بہت مبہم ہیں لیکن بہر حال جتنے ظاہر ہیں ان سے پتہ لگ جاتا ہے کہ بہت چھوٹی سی پڑھائی اس کی تھی مگر اس کے ساتھ اس نے ترقی کر کے بہت بڑا درجہ حاصل کر لیا۔تو جب انسان اپنے ملک کی زبان میں لٹریچر پڑھے اور سیدھے سادے طور پر مطالعہ کرے (صرف مطالعہ کی عادت ہونی چاہئے ) تو پھر وہ آگے نکل جاتا ہے۔پس تعلیم میں یہ کوشش کرو کہ ہر احمدی اردو لکھ پڑھ سکتا ہو اور لکھنا بھی بے شک ایسا ہی ہو کہ مشکل سے پڑھا جائے۔تم دیکھ لور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے جو کاتب تھے وہ کیسا لکھا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط مقوقس کے نام کا آج تک محفوظ ہے۔میں اس جگہ ایک غلطی کا بھی ازالہ کر دیتا ہوں۔میری کسی کتاب میں یہ لکھا گیا ہے کہ قیصر کے نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط لکھا تھاوہ محفوظ ہے حالانکہ وہ قیصر کے نام کاخط نہیں مقوقس کے نام کا خط ہے۔بہر حال میاں بشیر احمد صاحب نے اس خط کی نقل منگوائی۔جس سے منگوائی تھی و ایمبیسیڈر تھا اس نے یہ خیال کر کے کہ شاید ان پر بھی احسان ہو جائے اور یہ بھی کہیں کہ وہ