انوارالعلوم (جلد 24) — Page 562
انوار العلوم جلد 24 562 سال 1954ء کے اہم واقعات شاخیں ڈال دیں اور چھت بنالی۔بسا اوقات ایسا ہو تا تھا کہ بارش ہوتی تھی اور آپ سجدہ کرتے تھے اور آپ کے گھٹے بھی پانی سے تر ہو جاتے تھے ، ماتھا بھی تر ہو جاتا تھا، کیچڑ بھی لگا ہوا ہوتا تھا مگر اُسی جگہ سجدے کرتے تھے۔ہماری جماعت میں یہ کیا آفت آئی ہوئی ہے کہ ہر شخص کہتا ہے کہ پکی مسجد ہونی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک پکی مسجد خانہ کعبہ بنی ہوئی تھی باقی لوگوں کے پاس اپنی سیدھی سادی مسجد میں تھیں۔اب ایک مسجد تم نے مرکز میں بنالی ہے یہ پکی مسجد تمہارے لئے کافی ہے باقی توفیق ملے تو بے شک بناؤ۔اگر اپنے گھروں سے خدا کا گھر اچھا بنے تو بڑی اچھی بات ہے لیکن یہ کہ خدا کا گھر ہی کوئی نہ ہو یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے پندرہ پندرہ ہیں بیس سال صرف اس لئے گزار دیئے ہیں کہ اچھی جگہ نہیں ملتی۔مثال کے طور پر میں بتا دیتا ہوں امر تسر کی جماعت تھی ان کے سپرنٹنڈنٹ بڑے مخلص تھے ان کا سارا خاندان احمدی ہے اور بڑا مخلص ہے میرے پاس آئے اور آکر انہوں نے کہا مسجد کے لئے دعا کریں۔میں نے کہا کیا دقت ہے جو ہم دعا کریں۔خدا نے سامان دیا ہوا ہے، زمینیں بکتی ہیں اور روپیہ بھی خدا نے آپ کو دیا ہوا ہے۔خدا سے دعا تو برکت کے لئے کریں گے مسجد لینے کے لئے کیا دعا کریں۔کہنے لگے نہیں جی جگہیں تو ہیں لیکن جگہ ذرا سنٹر میں ہو جہاں اسلامیہ سکول ہے اگر وہاں جگہ ملے تو پھر اچھا ہے۔میں نے کہا ہاں بازار کے باہر جگہ ہے، میں نے خود کئی جگہیں دیکھی ہیں وہاں لے لو۔کہنے لگے نہیں جی وہ بہت دور ہے اس میں مزا نہیں مسجد یہاں بنی چاہئے۔خیر میں ان کو سمجھا تا رہا، تین چار سال گزرے تو پھر وہ کہنے لگے مسجد کے لئے دعا کریں۔میں نے کہا کیا کوئی جگہ نہیں ؟ کہنے لگے نہیں جی اب دعا کریں کہ ہال بازار کے باہر جگہ مل جائے۔میں نے کہا۔ہیں! آپ تو اسلامیہ سکول کے پاس لے رہے تھے اب کیا ہوا ہے؟ کہنے لگے وہ تو نہیں ملتی لیکن اب یہاں بھی دقت ہو گئی ہے اور مکان بننے لگے ہیں جس کی وجہ سے اب یہ سنٹرل جگہ ہو گئی ہے ہماری خواہش ہے کہ ہمیں یہاں جگہ مل جائے آپ دعا کریں۔میں نے کہا تم نے پہلے اُس وقت کیوں نہ لی ؟ کہنے لگے اُس وقت اور