انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 556

انوار العلوم جلد 24 556 سال 1954ء کے اہم واقعات مؤرخ ہے اس کو بھی ماننا پڑا کہ احمدیت کے اندر وہ بیج موجود ہے جس نے عیسائیت سے ٹکر لینی ہے اور پھر ممکن ہے یہی جیت جائیں۔وہ تو آخر مخالف ہے اس نے ممکن ہی کہنا تھا یہ تو نہیں کہنا تھا کہ یقینی امر ہے کہ جیت جائیں۔تو اتنے مقام پر پہنچنے کے بعد کتنی شرم کی بات ہے اگر تم اپنا قدم پیچھے ہٹا لو۔تم وہ تو نہ کرو جیسے کہتے ہیں کہ کوئی مغرور شخص تھا۔اس کو یہ خیال ہو گیا کہ میں بڑا بہادر ہوں اور بہادری کی علامت اس نے یہ مقرر کی ہوئی تھی کہ وہ خوب چربی لگا لگا کے اپنی مونچھیں موٹی کرتا رہتا تھا چنانچہ اس نے خوب مو مچھیں پال لیں۔کوئی انچ بھر وہ موٹی ہو گئیں اور پھر اس نے ان کو مروڑ مروڑ کر آنکھوں تک پہنچا دیا۔اور پھر اس نے یہ اصرار کرنا شروع کیا کہ چونکہ مونچھیں بہادری کی علامت ہیں اس لئے خبر دار اِس علاقہ میں میرے سوا کوئی مونچھ نہ رکھے۔لوگوں میں مونچھیں رکھنے کا عام رواج تھا کیونکہ اس زمانہ میں جنگی کیریکٹر یہ سمجھا جاتا تھا کہ مونچھیں چڑھائی ہوئی ہوں مگر اُس نے جس کی مونچھ دیکھنی پکڑ لینی اور قینچی سے کاٹ ڈالنی اور کہنا خبر دار آئندہ جو یہ حرکت کی۔میرے مقابلہ میں کوئی شخص مونچھیں نہیں رکھ سکتا۔سارے علاقہ میں شور پڑ گیا آخر لوگوں نے کہا ذلیل کیوں ہونا ہے مونچھیں کٹو اڈالو ورنہ اس نے تو زبر دستی کاٹ ڈالنی ہیں۔کئی بیچاروں نے گاؤں چھوڑ کر بھاگ جانا اور کسی نے چپ کر کے نائی سے کٹوا دینی۔نہیں کٹوانی تو اس نے جاتے ہی بازار میں مونچھ پکڑ لینی اور قینچی مارنی اور کاٹ ڈالنی۔اِس سے لوگوں کی بڑی ذلتیں ہوئیں۔آخر ایک شخص کوئی عقلمند تھا یوں تھا غریب سا اس نے جو دیکھا کہ روز روز یہ مذاق ہو رہا ہے اور اس طرح لوگوں کی ذلت ہوتی ہے تو اس نے کیا کیا کہ وہ بھی گھر میں بیٹھ گیا اور اس نے مونچھیں بڑھانی شروع کر دیں۔یہاں تک کہ اس نے اس سے بھی زیادہ بڑی مونچھیں بنالیں۔جب مونچھیں خوب ہو گئیں تو آکر بازار میں ٹہلنے لگ گیا اور ایک تلوار لٹکالی حالا نکہ تلوار چلانی بیچارے کو آتی ہی نہیں تھی۔اب اس پٹھان کو لوگوں نے اطلاع دی کہ خان صاحب! چلئے کوئی مونچھوں والا شخص آگیا ہے۔کہنے لگا کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا فلاں بازار میں ہے۔خیر دوڑے دوڑے وہاں آئے دیکھا تو بڑے جوش سے کہا تم کو پتہ نہیں مونچھیں