انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 541

انوار العلوم جلد 24 541 سال 1954ء کے اہم واقعات ނ اپنی طاقت سے بہت زیادہ دے دیا ہے اصل چندہ جو قاعدہ کے مطابق دیکھا جائے گا وہ دس گیارہ ہزار نکلے گا یعنی متوقع آمد کا دسواں حصہ۔گویا یہ چندہ ایسا ہے جو جماعت میں سے 10 / حصہ نے ادا کیا ہے 9/10 نے ادا نہیں کیا۔نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ابھی ہمیں امریکہ سے مشن ہاؤس والوں نے لکھا کہ ہمارے مشن ہاؤس کے ساتھ ایک زمین ہے جس میں اچھے پیمانہ پر مسجد بنائی جاسکتی ہے یہ زمین اگر اس وقت لے لی جائے تو سات ہزار ڈالر میں حاصل ہو سکتی ہے۔کیونکہ مالک کو ضرورت ہے اور وہ ستا دینے کو تیار ہے لیکن ہم نے مجبوراً اُن کو یہی لکھا کہ ہمارے پاس تو روپیہ ہی نہیں ہم کہاں سے دیں۔اب اس کے میں یا تو سابق جگہ میں بہت چھوٹا سا کمرہ مسجد کا بنے گا یا پھر ہمیں کوئی نئی زمین مسجد کے لئے خریدنی پڑے گی اور نئی جگہ پر انتظام کرنا پڑے گا۔اب میں اس سال کا وہ واقعہ بیان کرتاہوں جس کی وجہ سے میری صحت پر بھی اثر پڑا ہے اور جس کی وجہ سے جماعت کے اندر بھی ایک گھبراہٹ اور تشویش پیدا ہوئی اور انہوں نے کہا کہ حفاظت کے انتظام کے لئے خاص چندہ مقرر کیا جائے تاکہ ساری جماعتیں اس میں شریک ہو سکیں۔یہ چندہ بھی جیسا کہ عام چندے کی رقم یا وصیت کی رقوم آتی ہیں اور جیسا کہ سمجھا گیا تھا کہ آمدن ہو گی اس طرح اس کی وصولی نہیں ہو رہی بلکہ ہمارا جو اندازہ تھا اُس کا قریباً تیسر آیا چوتھا حصہ وصول ہو رہا ہے۔یوں تو جماعت میں سے بعض کہنے والے ایسے موقعوں پر کہہ دیتے ہیں کہ ان کو ملامت ہے ان کو ملامت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب تک سارے لوگ اپنے فرض کو ادا نہ کریں محض دوسروں کو ملامت کرنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ربوہ والوں کو تو رات دن کچھ نہ کچھ کام ایسے موقعوں پر کرنا ہی پڑتا ہے وہ پہرے بھی دیتے ہیں اور پھر وہ دوسرے بھی کئی کام کرتے ہیں۔باہر کی جماعتوں نے تو اس کو صرف اپنے چندہ سے ہی پورا کرنا ہوتا ہے۔اور پھر ربوہ والے بھی اسی طرح چندہ دیتے ہیں۔لیکن اگر جماعت کے اندر یہ ہو کہ ریزولیوشن تو یہ ہوں کہ مر جائیں گے اور یوں کر دیں گے لیکن عملاً آکر کمزوری دکھائیں تو یہ دشمن کے لئے ہنسی کا موجب بن جاتا ہے۔یہ واقعہ جس طرح ہوا میں اسے آج دوستوں کے سامنے