انوارالعلوم (جلد 24) — Page 540
انوار العلوم جلد 24 540 سال 1954ء کے اہم واقعات اگر ان میں سے آدھوں کی ترقی بھی فرض کر لی جائے کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے فوجی ملازم ہیں کہ ان کی سالانہ ترقی نہیں ہوتی کچھ وقفے کے بعد ہوتی ہے بہر حال اگر ہزار آدمی بھی سمجھ لیا جائے تو بارہ چودہ پندرہ یا بیس روپیہ ان کی ترقی کی اوسط نکل آئے گی۔اگر پندرہ روپیہ بھی ترقی کی اوسط رکھی جائے تو پندرہ ہزار تو یہ آجاتا ہے۔پچیس ہزار ہو گئے۔پھر میں نے یہ کہا تھا کہ ڈاکٹر اور وکیل ( بلکہ خود ڈاکٹروں اور وکیلوں کے مشورہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔اپنی سابق آمد کا تعین کر کے ہر سال اس میں جو زیادتی ہو اس زیادتی کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیا کریں۔اسی طرح بجٹ کے سال کے پہلے مہینہ یعنی ماہ مئی کی آمد کا پانچ فیصدی ہر سال ادا کیا کریں یہ بھی کوئی ایسا بوجھ نہیں جو لوگوں کے لئے مشکل ہو۔میرے نزدیک کئی ہزار کی رقم اس طرح نکل سکتی ہے۔اسی طرح ایک یہ تجویز تھی کہ جو چھوٹے تاجر ہیں وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دے دیا کریں اور جو بڑے تاجر ہیں وہ ہر مہینہ کی پہلی تاریخ کے پہلے سودے کا منافع دے دیا کریں۔پھر زمینداروں کے متعلق یہ تھا کہ جو دس ایکڑ سے کم زمین کے مالک ہیں وہ ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے اور جو دس ایکڑ سے زیادہ زمین کے مالک ہیں۔خواہ بارانی ہو یا نہری۔وہ دو آنے فی ایکڑ کے حساب سے دے دیا کریں۔یہ بھی کوئی ایسا چندہ نہیں ہے جو کسی زمیندار پر دو بھر ہو مثلاً اگر دو آنے مقرر ہیں اور 125 ایکٹر یعنی ایک مربع اسکے پاس ہے تو مربع والے کے لئے تین روپے مسجد کے لئے چندہ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔پھر پیشہ وروں کے لئے یہ قاعدہ تھا کہ وہ ہر مہینہ کی پہلی تاریخ کو یا مہینہ کا کوئی اور دن مقرر کر کے اس دن جو انہیں مزدوری مل جائے اس کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔بہر حال یہ سارے کے سارے ذرائع آمدن ایسے تھے جو کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے اور آمدن اسی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے لیکن ہوتی چودہ ہزار ہے اور اس چودہ ہزار میں سے دو تین ہزار ایسے بھی نکلیں گے جنہوں نے اپنے اخلاص میں