انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 527

انوار العلوم جلد 24 527 سال 1954ء کے اہم واقعات کہا یہی میں آپ کو کہہ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا۔خاوند اپنی بیوی کو جو پر دہ میں ہے لے کر ٹہل رہا ہے اس میں قابلِ اعتراض بات کون سی ہے۔تو کئی چیزیں ایسی تھیں جن کو لوگوں نے تمسخر بنایا ہوا تھا۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے دلی میں دیکھا ہے کہ ارد گرد پردہ کر کے ڈولی آئی پھر ڈولی کے گرد پردہ کیا اور پھر عورت کو اندر بٹھایا۔یہ ساری باتیں لغو ہیں لیکن اس کا رد عمل یہ تو نہیں ہونا چاہیئے کہ تم اپنے باپ دادا کی سزا خدا کو دینا شروع کر دو۔تمہارے باپ دادوں نے تم پر ظلم کئے، تمہارے باپ دادوں نے تم کو قید کیا، تمہارے باپ دادوں نے تمہیں ایسی حالت میں رکھا جو جانوروں سے بھی بدتر تھی۔تمہیں چڑیا خانوں میں رکھا لیکن کیا اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ تم خدا کے حکم کو رد کر دو گی۔یہ تو بالکل وہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی نمبر دار کسی جلا ہے کا بر تن مانگ کر لے گیا اور پھر اس نے وقت پر اس کو واپس نہ کیا کچھ مدت انتظار کرنے کے بعد جلاہا نمبر دار کے گھر گیا تا کہ اپنا بر تن واپس لے۔وہ گیا تو اتفاقاً اسی کے برتن میں (وہ کٹورا تھا جسے پنجابی میں چھنا کہتے ہیں) وہ سالن ڈال کر کھا رہا تھا یہ دیکھ کر اس کو اور آگ لگ گئی۔پہلے تو اسے یہی غصہ تھا کہ اتنی دیر ہو گئی اس نے بر تن واپس نہیں کیا اب اس برتن میں اسے سالن کھاتے دیکھ کر اسے اور غصہ چڑھا اور کہنے لگا " اچھا نمبر دار یہی سہی تُو مجھ سے کٹورا مانگ کر لایا تھا اور واپس نہ کیا بلکہ اس میں سالن ڈال کر کھا رہا ہے اب میرا بھی نام بدل دینا اگر میں تم سے بر تن مانگ کر نہ لے جاؤں اور اس میں غلاظت ڈال کر نہ کھاؤں" اپنی طرف سے اس نے سمجھا کہ میں نے اس کو سزا دی ہے مگر اصل سزا خود اپنے نفس کو دی تھی اسی طرح اگر تم بھی کرتے ہو تو یہ حماقت کی بات ہے۔تم نے اپنے باپ دادوں کو جو سزا دینی ہے دے لو۔خدا تعالیٰ کو کیوں سزا دینا چاہتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو حکم بھی دیا ہے خیر والا دیا ہے، بہتری والا دیا ہے اور اس کے نتائج یقینا بڑے بابرکت ہیں لیکن جو تمہیں تمہارے باپ دادا نے دکھ دیا تھا اس کی جگہ پر تم یہ کر رہی ہو کہ تم نے خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑنا شروع کر دیا ہے۔