انوارالعلوم (جلد 24) — Page 521
انوار العلوم جلد 24 521 سال 1954ء کے اہم واقعات عورتوں سے خطاب کرتا ہوں۔کیونکہ اس دفعہ پھر عورتوں کے لئے تقریر کا الگ انتظام نہیں ہو سکا۔عورتوں کے لئے جو ان کا خصوصی فرض مقرر کیا گیا ہے میں اس کی طرف انہیں توجہ دلاتا ہوں اور وہ مسجد ہالینڈ ہے۔ہالینڈ کی مسجد کا بنانا عورتوں کے ذمہ لگایا گیا ہے۔مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس فرض کو عورتوں نے اُس تن دہی سے ادا نہیں کیا جس طرح کہ وہ پہلے ادا کیا کرتی تھیں۔مسجد ہالینڈ کا سارا چندہ اِس وقت تک غالباً ساٹھ پینسٹھ ہزار کے قریب ہوا ہے۔لیکن اس کے اوپر جو خرچ کا اندازہ ہے وہ جیسا کہ میں نے پچھلے سال بیان کیا تھا قریباً ایک لاکھ دس ہزار روپے کا ہے۔بلکہ اب تو کچھ اور دقتیں پیدا ہو گئی ہیں۔یعنی جو آرکیٹیکٹ (Architect) تھا اس نے اپنا نقشہ دیتے ہوئے لکھ دیا کہ ساٹھ ہزار میں مسجد بنے گی۔جب دوسرے ماہرین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نوے ہزار لگے گا۔اب اگر ان کا اندازہ صحیح ہو تو نوے ہزار یہ اور تیس ہزار کی زمین ہے ایک لاکھ میں ہزار ہوا۔پھر جو نگرانی وغیرہ پر خرچ ہو گا پانچ چھ ہزار اس کا بھی اندازہ لگالو، پانچ چھ ہزار فرنیچر کا لگا لو تو ایک لاکھ تیس ہزار بن گیا۔اس لحاظ سے بھی قریباً ستر ہزار کی رقم کی ضرورت ہے۔مجھے ابھی چلتے وقت دفتر نے رپورٹ بھجوائی ہے کہ سارے سال میں عورتوں سے اکیس ہزار روپیہ مانگا گیا تھا اور انہوں نے نو ہزار جمع کر کے دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ تحریک کے منتظمین میں بھی کسی قدرستی پائی جاتی ہے۔یا یہ کہو کہ ان کو کام کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔جو ان سے پہلے لوگ گزرے ہیں وہ کام کروا لیتے تھے لیکن موجودہ عہدہ دار جو پچھلے سال سے بدلے ہیں کام کروا نہیں سکتے۔لیکن ہانپتے ضرور ہیں کہ ہم نے اتنا کام کیا اور یوں لوگوں میں شور مچایا۔لیکن بہر حال شور مچانا وہی کارآمد ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ نکلے۔اگر نتیجہ نہیں نکلتا تو ہم یہ سمجھیں گے کہ کام کرنے والے کے طریق کار میں کوئی نقص ہے۔مثلاً لجنہ ہے لجنہ نے اپنا ہال وغیرہ بنا لیا ہے اور اس پر انہوں نے پچاس ہزار کے قریب روپیہ لگایا ہے۔وہ آخر جمع ہو گیا