انوارالعلوم (جلد 24) — Page 19
انوار العلوم جلد 24 19 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی ”اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النسبیتین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِى كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ۔یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا“۔29 مذکورہ بالا تشریح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ختم نبوت کی کی ہے اور ہر دیانتدار آدمی کو مانا ہو گا کہ اس تشریح میں آپ کلی طور پر صحابہ اور اولیاء و فقہاء اُمت سے متفق ہیں اور آپ پر حملہ کرنا صحابہ اور اولیاء امت پر حملہ کرنا ہے لیکن ہم اپنا آخری نوٹ اس بارہ میں لکھنے سے پہلے یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ اجمالاً بانی سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ختم نبوت کے بارہ میں تمام مسلمانوں کے مطابق تھا۔آپ لکھتے ہیں :- ” دوسرے الزامات جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص لیلتہ القدر کا منکر ہے اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ان تمام امور میں میر ا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔۔۔۔۔اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا میں کرتا ہوں