انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 499

انوار العلوم جلد 24 499 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء زائد باتیں ہوا کرتی تھیں۔اصل تقریر وہی ہوا کرتی تھی جو خصوصاً 27 تاریخ کو نماز ظہر و عصر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرمایا کرتے تھے۔پس جو آپ لوگوں کا مشورہ ہو گا اس پر یہاں کا مرکز عمل کرے گا۔آپ لوگ اپنی اپنی مجالس میں غور کر لیں غریب، کمزور اور مسکین جو بیمار ہیں اُن کا بھی خیال کر لیں، جو شائقین ہیں اُن کا بھی خیال کر لیں اور پھر جو دونوں طرف کے نقطہ نگاہ سننے کے بعد آپ کی درمیانی رائے بنے اس سے اپنے نمائندہ کو آگاہ کر دیں تا کہ وہ اس جگہ شوری کے موقع پر آپ لوگوں کے خیالات پہنچا دے۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ماتحت ایک سال کے بعد پھر ہمیں اس لئے جمع ہونے کا موقع ملا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کا اقرار کریں اور اس کے سامنے اپنی عقیدت کا تحفہ پیش کریں۔کہتے ہیں " کیا پدی اور کیا پدی کا شور با" حقیقتا دنیا کی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور دنیا کے مذاہب کو مد نظر رکھتے ہوئے پدی کا شور با تو کسی کام آبھی سکتا ہے مگر آپ لوگوں کا شور با کسی کام نہیں آ سکتا۔اعداد و شمار کے لحاظ سے آپ کی تعداد بہت کم ہے ، ظاہری سازوسامان کے لحاظ سے آپ کی طاقت بہت کم ہے، نفوذ اور اثر کے لحاظ سے آپ کا خانہ خالی ہے۔ہمارا یہاں جمع ہونا در حقیقت ایسا ہی ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو ایک یتیم کی صورت میں دیکھ کر ، ایک لاوارث کی صورت میں دیکھ کر اسے منڈی میں لے آیا اور اس نے کہا کہ کوئی اس کا خریدار ہو ، کوئی اس کا متوئی ہو جو اس کی حفاظت کرنے کا ذمہ دار ہو۔دنیا کے لوگوں نے جو بڑے بڑے مالدار تھے اور بڑے بڑے رسوخ والے تھے اور بڑے بڑے اثر والے تھے انہوں نے اس چیز کو دیکھا اور اس کی قدر نہ کی اور انہوں نے اپنے منہ پھیر لئے اور کہا کہ یہ دردِ سر کون مول لیتا پھرے، کون اس یتیم اور غریب کی حفاظت اور پرورش کا ذمہ لے۔مگر تم جب سب سے زیادہ حقیر اور ذلیل اور غریب تھے تم نے اپنے آپ کو پیش کیا کہ ہم اس یتیم کو اپنے گھر میں رکھیں گے اور پالیں گے اور اس کی حفاظت