انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 472

انوار العلوم جلد 24 472 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب مصداق ہے۔بائیبل میں لکھا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کی تجلی دیکھنے طور پر گئے تو ان کے پیچھے ہارون علیہ السلام مشرکوں سے مل گئے اور بچھڑے کی پوجا شروع کر دی لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ ہارون علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو آپ نے انہیں روکا اب دیکھو قرآن کریم 1900 سال بعد آیا ہے اور بائیبل خود اس کے ماننے والوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں لکھی گئی تھی۔اب ایک روایت بائیبل میں موجود ہے اور ایک روایت قرآن کریم نے بیان کی ہے جو 1900 سال بعد میں آیا ہاں اس کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اب اگر دیکھا جائے کہ ان روایات میں سے کونسی روایت درست ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک صاحب الہام کو یہ شبہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہے بھی یا نہیں۔مثلاً میں ایک شخص کے متعلق یہ جانتا ہوں کہ وہ یہاں بیٹھا ہے اب اسکے متعلق میں یہ بھلا کیوں کہوں گا کہ وہ چنیوٹ میں ہے۔حضرت ہارون علیہ السلام تو ظلم میں اللہ تھے اگر ان کے متعلق ہمارا یہ دعویٰ درست ہے تو آپ بچھڑے کی پوجا کس طرح کر سکتے تھے۔پس علم النفس ہمیں بتاتا ہے کہ ان پر بچھڑے کی پوجا کا الزام لگانا درست نہیں پھر مذہبی کتابوں اور تاریخ سے آپ کی جس قسم کی ذہانت کا پتہ لگتا ہے اس ذہانت والا شخص بھی یہ غلطی نہیں کر سکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بچھڑے کی پوجاشروع کر دے۔اس لئے عقلاً بھی قرآن کریم کی روایت ٹھیک ہے اور بائیبل کی روایت غلط ہے یہ چیز ایسی ہے کہ اسے جس سمجھدار انسان کے سامنے بھی ہم پیش کریں اسے قرآن کریم کی فضیلت ماننی پڑتی ہے۔یہ تو ہمارا بیان ہے لیکن انسائیکلو پیڈیا میں بھی لکھا ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے ہارون علیہ السلام نے شرک نہیں کیا بلکہ آپ نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا سے روکا اور اس روایت کو عقل سلیم بھی تسلیم کرتی ہے اسکے مقابلہ میں بائیبل کی روایت غلط ہے۔غرض خود یورپین محققین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بائیبل کے مقابلہ میں قرآن کریم کی روایت زیادہ درست ہے پس جب تاریخ کے ساتھ علم النفس مل جاتا ہے تو وہ اسے قطعی اور یقینی بنا دیتا ہے۔غلطیاں ہر علم والے سے