انوارالعلوم (جلد 24) — Page 463
انوار العلوم جلد 24 463 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب (فرمودہ 6 دسمبر 1954ء بر موقع افتتاح تعلیم الاسلام کا لج ربوہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ”آج تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی تقریب کے سلسلہ میں مجھے یہاں بلایا گیا ہے جیسا کہ اس کالج کے نام سے ظاہر ہے۔اس کے بنانے والوں کی غرض یہ تھی کہ اس کالج میں طلباء اسلام کی تعلیم سیکھیں یعنی وہ یہاں آکر جہاں دنیوی علوم حاصل کریں۔وہاں وہ قرآن کریم کے پیشکر دہ علوم کو بھی حاصل کریں۔بعض لوگ نادانی اور جہالت کی وجہ سے یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید قرآن کریم دوسرے علوم کے سیکھنے سے روکتا ہے حالانکہ قرآن کریم اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین قدرت کا زیادہ سے زیادہ علم اور تجربہ حاصل کرنا چاہیئے اور علم نام ہی اس چیز کا ہے جس کو حقیقت اور شواہد سے ثابت کیا جاسکے جس چیز کو قوانین قدرت کی مدد سے ثابت نہ کیا جاسکے وہ جہالت قیاسات اور وہم ہوتا ہے۔اس کا نام علم نہیں رکھا جاسکتا۔علم کے معنے ہوتے ہیں جاننا اور دوسری چیز کے لئے دلیل ہونا حضرت مسیح علیہ الاسلام کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔اِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ 4 کہ وہ قیامت کے لئے ایک علامت اور دلیل ہیں۔پس علم کے معنے ہیں وہ چیز جس کے ذریعہ سے دوسری باتیں ثابت کی جا سکیں اور ثابت وہی چیز کی جاسکتی ہے۔جس کے لئے ظاہری شواہد موجود ہوں پس جو چیز قانون قدرت کی تائید رکھتی ہے۔وہ علم ہے اور جو چیز قانون قدرت کی تائید نہیں رکھتی وہ علم نہیں۔