انوارالعلوم (جلد 24) — Page 455
انوار العلوم جلد 24 455 خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد۔اور کہا ہم اس طرح تمہاری تو بہ نہیں مانتے۔تم چلو اور مسجد میں ہمارے ساتھ نماز پڑھو۔وہ چونکہ دل میں ایمان رکھتا تھا اور صرف کمزوری کی وجہ سے اُس نے منہ سے توبہ کی تھی اس لئے جب دوبارہ ہجوم اُس کے پاس پہنچا تو خدا نے اُسے عقل دے دی اور وہ کہنے لگا دیکھو بھئی ! جب میں مرزائی تھا تو نمازیں پڑھا کرتا تھا، شراب سے بچتا تھا، کنچنیوں کے ناچ گانے میں نہیں جایا کرتا تھا جب تم آئے اور تم نے کہا تو بہ کرو تو میں بڑا خوش ہوا کہ چلو اچھا ہوا مجھے ان مصیبتوں سے نجات ملی۔پس میں نے تو اس خیال سے توبہ کی تھی کہ مجھے اب نمازیں نہیں پڑھنی پڑیں گی ، شراب پیوں گا اور کنچنیوں کے ناچ گانے میں شامل ہوا کروں گا کیونکہ یہ پابندیاں مجھ پر مرزائی ہونے کی حالت میں تھیں۔مرزائیت سے توبہ کر کے یہ سب مصیبتیں جاتی رہیں مگر تم ادھر مجھ سے تو بہ کرواتے ہو اور اُدھر وہی کام کرواتے ہو جو مرزائی کیا کرتے ہیں پھر یہ تو بہ کیسی ہوئی ؟ اس پر وہ شر مندہ ہو کر چلے گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ مولوی کی بات ٹھیک ہے اس نے دل سے توبہ نہیں آخر یہ کیا چیز تھی جس نے اتنے فتنہ کے زمانہ میں اگاؤ کا احمدی کو بھی اپنی جگہ قائم رکھا اور جان، مال اور عزت کے خطرہ کے باوجود اُن کا قدم نہیں ڈگمگایا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم ایک مقصد کے پیچھے چل رہے ہیں اور یہ بے مقصد لوگ ہیں ہم ان کی خاطر اپنے مقصد کو کس طرح چھوڑ دیں اور اگر ہم چھوڑتے ہیں تو خائب و خاسر ہو جاتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی مقصد کے ماتحت کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں اسلام کی روح کو زندہ رکھا جائے اور انہیں گرنے سے بچایا جائے۔باغوں میں پھل لگتے ہیں تو اس میں انسانوں کا اختیار نہیں ہوتا۔پھل لگتے ہیں اور بے تحاشہ لگتے ہیں مگر خد الگاتا ہے۔انسان کا اختیار اُس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ ان پھلوں کو گرنے سے بچاتا ہے یا اس امر کی نگہداشت کرتا ہے کہ اسے جانور نہ کھا جائیں یا بچے نہ توڑلیں یا کیڑے اس باغ کو خراب نہ کر دیں اور یہ حفاظت اور نگہداشت اس کی خوبی ہوتی ہے۔جہاں تک پھلوں کا