انوارالعلوم (جلد 24) — Page 446
انوار العلوم جلد 24 446 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ انصار اللہ کے صدر ہوں گے اگرچہ میرا یہ حکم ڈکٹیٹر شپ“ کی طرز کا ہے لیکن اس ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے ہی تمہارا کام اس حد تک پہنچا ہے ورنہ تمہارا حال بھی صدر انجمن احمدیہ کی طرح ہی ہوتا۔ایک دفعہ ایک جماعت کی طرف سے ایک چٹھی آئی جو سیکرٹری مال کی طرف سے تھی انہوں نے تحریر کیا کہ ہمارے بزرگ ایسے نیک اور دین کے خدمت گزار تھے کہ انہوں نے دین کی خاطر ہر ممکن قربانی کی لیکن اب ہم جو اُن کی اولاد ہیں ایسے نالائق نکلے ہیں کہ جماعت پر مالی بوجھ روز بروز زیادہ ہو رہا ہے لیکن ہم نے اپنا چندہ اتنے سالوں سے ادا نہیں کیا۔آپ مہربانی کر کے اپنا آدمی یہاں بھجوائیں دوستوں کو ندامت محسوس ہو رہی ہے چنانچہ یہاں سے نما ئندہ بھیجا گیا اور چند دن کے بعد اس کی طرف سے ایک چٹھی آئی کہ ساری جماعت یہاں جمع ہوئی اور سب افراد اپنی سستی اور غفلت پر روئے اور انہوں نے درخواست کی کہ پچھلا چندہ ہمیں معاف کر دیا جائے آئندہ ہم باقاعدہ چندہ ادا کریں گے اور اس کام میں غفلت نہیں کریں گے۔کچھ عرصہ کے بعد پھر بقایا ہو گیا تو ایک اور چٹھی آگئی کہ مرکز کی طرف سے کوئی آدمی بھیجا جائے احباب میں ندامت پیدا ہوئی ہے چنانچہ ایک آدمی گیا تمام لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے گریہ وزاری کی اور یہ درخواست کی کہ پہلا چندہ معاف کیا جائے آئندہ ہم با قاعده چندہ ادا کریں گے غرض ہر تیسرے سال یہ چکر چلتا دو تین آدمی ایسے تھے جو با قاعدہ طور پر چندہ ادا کرتے تھے باقی کا یہی حال تھا۔اگر میں مجلس خدام الاحمدیہ کے بارہ میں ڈکٹیٹر شپ استعمال نہ کرتا تو تمہارا بھی یہی حال ہو تا۔نوجوانوں کو میں نے پکڑ لیا اور انصار اللہ کو یہ سمجھ کر کہ وہ بزرگ ہیں ان میں سے بعض میرے اساتذہ بھی ہیں چھوڑ دیا لیکن اب تم دیکھتے ہو کہ خوردبین سے بھی کوئی انصار اللہ کا ممبر نظر نہیں آتا۔پس ناصر احمد کو میں انصار اللہ کا صدر مقرر کرتا ہوں۔وہ فوراً انصار اللہ کا اجلاس طلب کریں اور عہدہ داروں کا انتخاب کر کے میرے سامنے پیش کریں اور پھر میر امشورہ لے کر انہیں از سر نو منظم کریں۔پھر خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کی طرح انصار اللہ کا بھی سالانہ جلسہ کیا کریں لیکن ان کا انتظام اور قسم کا ہو گا۔اس اجتماع میں کھیلوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ