انوارالعلوم (جلد 24) — Page 434
انوار العلوم جلد 24 434 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار ٹوپی اتارنے کا رواج ہے وہی رواج ان کی نقل میں مسلمانوں میں آگیا ہے حالانکہ اسلام میں بجائے ٹوپی اتارنے کے ٹوپی سر پر رکھنے کا رواج ہے۔اسلام نے یہ پسند کیا ہے کہ نماز وغیرہ کے مواقع پر سر پر ٹوپی یا پگڑی رکھی جائے سر ننگا نہ ہو۔عورتوں کے متعلق علماء میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر ان کے سر کے اگلے بال ننگے ہوں تو آیا ان کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں اکثر کا یہی خیال ہے کہ اگر اگلے بال ننگے ہوں تو نماز نہیں ہوتی لیکن اس کے بر خلاف یورپ میں سر نگار کھنے کارواج ہے۔ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے مواقع پر ننگے سر کھڑے نہ ہوں اگر ان کے پاس ٹوپی یا پگڑی نہ ہو تو وہ اپنے سر پر رومال یا کوئی کپڑا رکھ لیں۔پرانے فقہاء کا خیال ہے کہ ننگے سر نماز نہیں ہوتی لیکن ہمارے ہاں مسائل کی بنیاد چونکہ احادیث پر ہے اور احادیث میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض صحابہ نے ننگے سر نماز پڑھی اس لئے ہم اس تشدد کے قائل نہیں کہ نگے سر نماز ہوتی ہی نہیں۔ہمارے نزدیک اگر کسی کے پاس ٹوپی یا پگڑی نہ ہو، اسی طرح سر ڈھانکنے کے لئے کوئی رومال وغیر ہ بھی اس کے پاس نہ ہو تو ننگے سر نماز پڑھی جاسکتی ہے لیکن ہر عالم چاہے وہ کتنا بڑا ہو بعض دفعہ مسائل میں دھوکا کھا جاتا ہے، بعض دفعہ ایجاد بندہ کہہ کر غلو تک بھی چلا جاتا ہے۔حافظ روشن علی صاحب نے جب حدیث میں یہ پڑھا کہ بعض مواقع پر بعض صحابہ نے ننگے سر نماز پڑھی تو انہوں نے یہ پر چار کرنا شروع کر دیا کہ ننگے سر نماز پڑھنانہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن امر ہے۔میں نے ان سے اس کے متعلق کئی دفعہ بحث کی۔میں نے انہیں بتایا کہ جس زمانہ میں صحابہ ننگے سر نماز پڑھتے تھے اس زمانہ میں کپڑے نہیں ملتے تھے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک جگہ کے مسلمانوں کو امام میسر نہ آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو جو 8، 9 سال کا تھا اور اسے بعض سورتیں یاد تھیں ان کا امام مقرر کر دیا وہ لڑکا غریب تھا اس کے پاس گر تا تھا پاجامہ نہیں تھا گر تا بھی کچھ اونچا تھا اس لئے جب وہ سجدہ میں جاتا تھا گر تا اونچا ہو جاتا تھا اور وہ نگا ہو جاتا تھا۔عورتوں نے شور مچا دیا اور کہا ارے مسلمانو ! تم چندہ کر کے اپنے امام کا نگ تو ڈھانکو۔اب اگر اس حدیث کو پڑھ کر کوئی شخص رض