انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 427

انوار العلوم جلد 24 427 اپنے اندر پجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے ڈاکٹروں نے کہا کہ ہم اس مرض کا علاج تو کریں گے مگر ہماری طب میں ابھی اس کی تشخیص نہیں ہوئی اور لٹریچر بہت ناقص ہے اطباء کے اصولِ علاج چونکہ کلیات پر مبنی ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بلغمی بخار ہے اور ہم اس کا علاج کر لیں گے میں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ یہ جھوٹ بولیں یا سچ بولیں، غلط کہیں یا درست کہیں بہر حال یہ کہتے ہیں کہ ہماری طب میں اس کا علاج موجود ہے اس لئے انہیں بھی علاج کا موقع دینا چاہئے۔چنانچہ میں نے ڈاکٹروں اور حکیموں کو ارد گرد کے دیہات میں بھجوادیا۔ساتھ مدرسہ احمدیہ کے طالب علم کر دیئے وہ سات سات میل تک گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں آدمیوں کی جان بچ گئی۔تو ہم خدمت خلق کرتے ہیں اور ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں مگر ہم ڈھنڈورا نہیں پیٹتے کہ ہم نے یہ کیا ہے ہم نے وہ کیا ہے۔مثلاً ملکانوں کی جو ہم نے خدمت کی اس کے متعلق ہم نے کچھ نہیں کہا لیکن دوسرے لوگوں نے اقرار کیا کہ ہم نے غیر معمولی کام کیا ہے۔مگر ہمارے ان سارے کاموں کے باوجو د دشمن نے پھر بھی یہی کہا کہ یہ شروع سے مسلمانوں کے دشمن ہیں بلکہ بعض عدالتوں نے بھی اس کو تسلیم کر لیا اور یہ خیال نہ کیا کہ تمام مصیبتوں کے وقت ہمیشہ احمدیوں نے ہی اپنی گردنیں آگے کی ہیں۔میں جب دلی میں جایا کرتا تھا تو اکثر یو۔پی کا کوئی نہ کوئی رئیس مجھے ملتا اور کہتا کہ میں تو آپ کا اُس دن سے مداح ہوں جس دن آپ کے لوگوں نے اپنے ہاتھ سے ایک مسلمان عورت کی کھیتی کاٹ کر اسلام کی لاج رکھ لی تھی اور مسلمانوں کی عظمت قائم کر دی تھی۔واقعہ یہ ہے کہ الور یا بھرت پور کی ریاست میں ایک عورت تھی جس کے سارے بیٹے آر یہ ہو گئے مگر وہ اسلام پر قائم رہی مائی جمیا اس کا نام تھا۔خان بہادر محمد حسین صاحب سیشن جج اس علاقہ میں تبلیغ کے لئے مقرر تھے ان کا بیٹا نہایت مخلص احمدی ہے وہ آجکل کچھ ابتلاؤں میں ہے اور مالی مشکلات اُس پر آئی ہوئی ہیں دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسکی مشکلات کو دور فرمائے۔بہر حال جب فصل کٹنے کا وقت آیا تو چونکہ سب گاؤں جو بڑا بھاری تھا آریہ ہو چکا تھا اور اس کے اپنے بیٹے بھی اسلام چھوڑ چکے تھے اور وہ عورت اکیلی